کھجوری چیک پوسٹ پر خود کش حملہ

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں بدھ کو کھجوری چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں 5 اہلکار شہید اور 43 زخمی ہو گئے۔


Editorial December 19, 2013
بدھ کو کھجوری چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں 5 اہلکار شہید اور 43 زخمی ہو ئے۔، فوٹو: رائٹرز/فائل

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں بدھ کو کھجوری چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں 5 اہلکار شہید اور 43 زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی اہلکار نماز مغرب ادا کر رہے تھے کہ خود کش بمبار نے بارود سے بھرا ٹرک چیک پوسٹ سے ٹکرا دیا جس سے چیک پوسٹ تباہ ہو گئی۔ کالعدم تنظیم انصار المجاہدین کے ترجمان ابوبصیر نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی حکیم اللہ محسود کا بدلہ ہے' جب تک امریکی ڈرون حملوں میں ہمارے لوگ مرتے رہیں گے ہم بھی ایسے حملے جاری رکھیں گے۔

حکومت پاکستان ملک میں قیام امن کی خاطر طالبان سے مذاکرات کا مسلسل عندیہ دے رہی ہے۔ منگل کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ امن کے قیام کی خاطر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے لیے آخری سنجیدہ کوشش کر کے دیکھ لی جائے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی اس امر کا اعادہ کر چکے ہیں کہ قیام امن کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات آج بھی پہلا آپشن ہے۔ ایک جانب حکومت امن کی خاطر طالبان سے مذاکرات کا اظہار کر رہی ہے تو دوسری جانب طالبان امن کی پیشکش کو قبول کرنے کے بجائے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں۔ طالبان نے حالیہ حملے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ انھوں نے حکیم اللہ محسود کی موت کا بدلہ لیا ہے۔

یہ اظہر من الشمس ہے کہ حکیم اللہ محسود کو پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں نے نہیں مارا بلکہ وہ امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ طالبان کی منطق بھی عجیب ہے کہ اسے مارا امریکا نے اور وہ بدلہ پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر کے لے رہے ہیں۔ اگر انھوں نے بدلہ لینا ہی ہے تو انھیں امریکی فورسز پر حملہ کرنا چاہیے۔ انصار المجاہدین کے ترجمان نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی اشاروں پر چل رہی ہے۔ طالبان اگر سطحی سوچ کو ترک کر کے گہرائی سے حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طالبان ایک اسلامی ملک کی مسلمان فورسز پر حملے کر کے خود امریکی ایجنڈا پورا کر رہے ہیں۔ جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے تو موجودہ حکومت پاکستان امریکا سے ڈرون حملے روکنے کا بارہا مطالبہ کر چکی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دورہ امریکا کے دوران بھی امریکی صدر سے ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت پاکستان اس امر کا اظہار کرتی چلی آ رہی ہے کہ ڈرون حملے اس کی ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لیے چیلنج ہیں مگر امریکا حکومت پاکستان کے مطالبے کو نظرانداز کرتے ہوئے ڈرون حملے مسلسل کر رہا اور اپنی اس پالیسی کو جاری رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔

حکومت پاکستان نے حکیم اللہ محسود سے مذاکرات کرنے کے لیے کافی پیشرفت کر لی تھی مگر امریکا نے مذاکرات سے قبل ہی ڈرون حملہ کر کے حکیم اللہ محسود کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے کی حکومت پاکستان نے مذمت بھی کی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی یہ کہا کہ امریکا حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملہ نہ کرتا تو بہت پیش رفت ہوتی' حملہ جان بوجھ کر کیا گیا۔ جب حکومت پاکستان ڈرون حملوں کے خلاف ہے اور حکیم اللہ محسود پر بھی ڈرون حملے کی مذمت کر رہی ہے تو پھر طالبان حکومت پاکستان پر کیوں الزامات دھرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اظہار کر رہے ہیں۔ طالبان کی یہ پالیسی قطعی طور پر درست نہیں۔ انھیں یہ حقیقت نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان حکومت کے پاس ان کے مقابلے میں زیادہ تربیت یافتہ اور جدید آلات سے لیس فورسز ہیں اور اگر حکومت پاکستان نے ان کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر دیا تو پھر ان قبائلی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانے چند دن میں ختم کر دیے جائیں گے اور ان کی طاقت کو توڑ دیا جائے گا۔

پھر طالبان کے اپنے اندر بھی متعدد گروپ موجود ہیں جن کے مابین شدید اختلافات ہیں۔ طالبان کے خلاف آپریشن کی صورت میں ممکن ہے کہ ان گروپس کے مابین اختلافات کھل کر سامنے آ جائیں اور ان کا اتحاد کمزور پڑ جائے۔ اب جب طالبان نے ایک بار پھر حملہ کرکے اپنی کارروائیاں مستقبل میں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تو اب حکومت پاکستان پر بھی لازم آتا ہے کہ وہ ملکی سالمیت' قومی وقار اور داخلی امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کی رٹ چھوڑ دے اور طالبان کے خلاف بھرپور آپریشن کر کے اس قضیے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ دوسری جانب وہ سیاسی و مذہبی جماعتیں جو پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے والے طالبان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں انھیں بھی اب اپنا موقف تبدیل کر لینا چاہیے کیوں کہ طالبان مذاکرات کا ہر راستہ بند کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز پر حملے کرکے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

طالبان کا اپنا سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی فضل اللہ کی ہر ممکن معاونت اور رہنمائی کر رہی ہے' اس طرح حکومت پاکستان پر امریکی اشاروں پر چلنے کا الزام لگانے والے طالبان خود پاکستان دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ اگر طالبان امریکا کو اپنا دشمن اور برائی کی اصل جڑ سمجھتے ہیں ان کا اثر جب کہ افغانستان میں بھی موجود ہے تو آخر وہ وہاں امریکی فورسز پر حملے کر کے انھیں نقصان کیوں نہیں پہنچا رہے' وہ ایک اسلامی ملک کی مسلح فورسز کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ طالبان نے مجاہدین کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے حقیقتاً وہ مسلم دنیا کو کمزور کرنے کے مذموم عزائم پورے کر رہے ہیں۔ طالبان کو مذاکرات کی بار بار پیشکش کا نتیجہ بھی سب کے سامنے آ گیا ہے۔ اب پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے وطن دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے دیر نہ کی جائے ورنہ تاخیر مزید نقصان کا باعث بنے گی اور طالبان کی مستقبل میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں مزید سیکیورٹی اہلکاروں کی جان جانے کا خدشہ اپنا جگہ موجود رہے گا۔