کھیلوں میں بے حسی کے واقعات آخر کب تک

مارچ 2009ء میں لاہور ٹیسٹ کے دوران سری لنکن ٹیم پر بعض شدت پسندوں کے حملے کے بعد ملکی گراؤنڈز تاحال ویران پڑے ہیں


Mian Asghar Saleemi December 22, 2013
مارچ 2009ء میں لاہور ٹیسٹ کے دوران سری لنکن ٹیم پر بعض شدت پسندوں کے حملے کے بعد ملکی گراؤنڈز تاحال ویران پڑے ہیں۔ فوٹو : فائل

NEW DELHI: یہ 14 دسمبر 2004ء کی بات ہے، پاکستانی دستہ انڈو پاک گیمز میں شرکت کے بعد بسوں کے ذریعے پیٹالہ سے براستہ واہگہ وطن واپس آ رہا ہے، ہرطرف دھند کا راج ہے جس کی وجہ سے ڈرائیور حضرات کو اپنی گاڑیاں چلانے میں دقت کا سامنا ہے۔

رہی سہی کسر ون وے روڈ نے پوری کر دی ہے، چار بسوں پر مشتمل پاکستانی قافلہ جالندھر کے قریب پہنچتاہے تو سامنے سے آنے والا تیز رفتار ٹرک پاکستانی قافلے میں شامل پہلی بس کے ساتھ ٹکراتا ہے لیکن ڈرائیور کی مہارت، حاضر دماغی اور پھرتی کی وجہ سے بہت بڑا حادثہ ہوتے ہوتے بچ جاتا ہے لیکن پھر بھی 2 گاڑیوں کے ٹکڑاؤ کی وجہ سے انٹرنیشنل بیڈمنٹن سٹار واجد علی، رستم پاکستان بشیر بھولا بھالا سمیت کچھ دوسرے کھلاڑی زخمی ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی دستے کے چیف ڈی مشن اس وقت کے سیکرٹری سپورٹس پنجاب سپورٹس بورڈ ارشد بھٹی، سیکرٹری پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن ادریس خواجہ چند دوسرے آفیشلز کے ہمراہ زخمی کھلاڑیوں کو مقامی ہسپتال لے کر جاتے ہیں اور پلیئرز کی مکمل صحت یابی تک ان کے ساتھ بھارت میں ہی موجود رہتے ہیں۔

راقم بھی اسی بس میں موجود تھا جس کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کا زیادہ عمل دخل نہ تھا، سرکاری ٹیلی ویژن کے علاوہ اکا دکا ٹی وی چینلز ہی آن ایئر تھے جس کی وجہ سے اس حادثے کی بازگشت چارسو سنائی نہ دے سکی اور اس واقعہ کو ایک معمولی حادثہ سمجھ کر بھلا دیا گیا لیکن یہ واقعہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ میرے ذہن میں تازہ ہو گیا جب مجھے پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم کے ایک کھلاڑی عدنان انور کو بھارتی سرزمین پر بے یارومددگار چھوڑنے کے بارے میں علم ہوا۔ اس واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم جونیئر ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے بھارتی سرزمین پرقدم رکھتی ہے، امیگریشن حکام کھلاڑی عدنان انور کے کاغذات نامکمل ہونے کے باوجود ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ بھارت جانے کی اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ دہلی پہنچ کر پولیس رپورٹ ضرور کروا لیں گے لیکن ٹیم مینجمنٹ ان ہدایات کو سنی ان سنی کر دیتی ہے اور جب پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کے بعد واہگہ بارڈر پہنچتی ہے تو پولیس رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے عدنان انور کو روک لیا جاتا ہے، اس صورت حال میں ٹیم مینجمنٹ کھلاڑی کی مدد کرنے کے بجائے دوسرے کھلاڑیوں کو لے کر وطن واپس آ جاتی ہے۔

دوسری طرف سامان زیادہ ہونے کی وجہ سے دہلی میں ہی رہ جانے والے کوچز انجم سعید اور دانش کلیم دوسری فلائٹ پر جالندھر سے واہگہ بارڈر پہنچتے ہیں تو وہاں پر پہلے سے موجود عدنان انور کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ اصل صورتحال معلوم ہونے کے بعد وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہیں اور ملنے والی ہدایات کی روشنی میں نیو دہلی سے پولیس رپورٹ کلیئر کروانے کے بعد اس پلیئر کو لے کر ایک دن بعد وطن واپس آتے ہیں۔ایک وہ حادثہ تھا جو آج سے 9 سال قبل پیش آیا اور ایک واقعہ چند روز پیشتر پاکستان ہاکی ٹیم کے ایک کھلاڑی کے ساتھ پیش آیا، ان واقعات سے جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے رویوں اور ذمہ داریوں میں بہتری آنے کے بجائے بگاڑ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔

بات چل ہی نکلی ہے تو ایک اور راز سے پردہ اٹھاتا جاؤں۔ 2004ء میں شیڈول انڈو پاک کا عرصہ تک چرچا رہا، یہ گیمز دونوں ملکوں کو اس قدر قریب لے آئیں کہ بظاہر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ سالہا سال کے پرانے دشمن سب کچھ بھلا کر اچھے دوست بن جائیں گے اور اندھی دولت جنگوں پر لٹانے کے بجائے وہی پیسہ غربت، بھوک، ننگ افلاس کے مارے عوام کی ترقی وخوشحالی پر خرچ کریں گے۔ اختتامی تقریب میں بھارتی وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ کی موجودگی میں اس وقت کے پاکستانی پنجاب کے چیف منسٹر چوہدری پرویز اعلی نے خوشی کے اس عالم میں دوسری انڈو پاک گیمزلاہور میں کروانے کا اعلان کر دیا۔ چوہدری پرویز الہی کی نیت صاف تھی اور وہ پاکستانی، بھارتی کھلاڑیوں پر مشتمل کھیلوں کا میلہ سجانے میں اس قدر سنجیدہ تھے کہ انہوں نے صوبائی بجٹ میں سے کروڑوں روپے کی رقم بھی دوسری انڈو پاک گیمز کے لئے مختص کر دی، لیکن قربان جاؤں کھیلوں سے وابستہ چند ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں اور پنجاب سپورٹس بورڈ کے اعلی افسروں پر جو گیمز کے لئے مختص رقم تو ہڑپ کر گئے لیکن آج 9 برس گزر جانے کے بعد بھی ان گیمز کا انعقاد نہیں ہو سکا ہے اور جب مقررہ وقت پر پاکستان اپنا وعدہ وفا نہ کر سکا تو بھارتی انتظامیہ نے طنز کے تیر چلاتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ کہاں گئیں تمہاری وہ قسمیں اور وعدے، اگر آپ لوگ گیمز نہیں کروا سکتے تو ہمیں بتائیں ہم ایک بار پھر آپ کا بھارتی سرزمین پر ''سواگت'' کریں گے۔



چند روز قبل بابا گرونانک سٹیڈیم لدھیانہ میں کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل کے لئے سجائی گئی رنگا رنگ تقریب میں وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بڑی دھواں دھار تقریر کی جس میں انہوں نے کبڈی، کرکٹ، ہاکی، ریسلنگ سمیت دوسری گیمز لاہور میں کروانے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلی کی تقریر کے دوران میں اپنے آفس میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہیں خادم اعلی پنجاب کا حال بھی چوہدری پرویز الٰہٰی جیسا نہ ہو لیکن یہ سوچ کر اس خیال کو جھٹک دیا کہ شاید اس بار ایسا اس لئے بھی نہ ہو کیونکہ محمد شہباز شریف کی ٹیم میں رانا مشہود احمد خان جیسے کھیلوں کے دلدادہ موجود ہیں، جنہوں نے گزشتہ برس ڈائریکٹر جنرل پنجاب سپورٹس بورڈ عثمان انور کے ساتھ مل کر سپورٹس فیسٹیول انٹرنیشنل کا کامیاب انعقادممکن بنایا اورجس میں پاکستانی کھلاڑی 2 درجن سے زائد عالمی ریکارڈز بنا کر اپنا نام گنیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں درج کروانے میں کامیاب رہے۔

کھیلوں کا ذکر ہو اور پاکستانی عوام کے محبوب اور ہر دلعزیز کھیل کرکٹ کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ مناسب نہ ہوگا۔ مارچ 2009ء میں لاہور ٹیسٹ کے دوران سری لنکن ٹیم پر بعض شدت پسندوں کے حملے کے بعد ملکی گراؤنڈز تاحال ویران پڑے ہیں اور پاکستان غیر ملکی ٹیموں کے لئے نوگو ایریا بنا ہوا ہے۔لیکن حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو سونے گراؤنڈز آباد کرنے میں ناکامی کے دوسرے اسباب میں ایک بڑا سبب ہماری اپنی نیتوں کا بھی ہے۔اعجاز بٹ سے لے کر نجم سیٹھی تک آنے والے بورڈ سربراہان میں سے کسی نے بھی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے سنجیدہ بنیادوں پر کام ہی نہیں کیا، بعض عہدیداروں نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو معذرت کے ساتھ ان میں اتنی اہلیت ہی نہیں تھی کہ وہ پاکستان میں کرکٹ کا عالمی میلہ دوبارہ سجا پاتے۔

پی سی بی سے ذاتی فائدے اٹھانے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے بعض عہدیدار اورٹیسٹ کرکٹرز دعوی کرتے آئے ہیں کہ ابھی ملکی حالات سازگار نہیں ہیں، غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان بلا کر کوئی نیا رسک نہیں لیا جا سکتا، میرا ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ جب پنجاب سپورٹس فیسٹیول انٹرنیشنل کا کامیاب انعقاد ہو سکتا ہے،پاکستان فٹبال فیڈریشن سری لنکا، ملائیشیا، بھارت، بنگلہ دیش، فلسطین اور افغانستان کی ٹیموں کو بلا سکتی ہے اور کراچی کے علاقے لیاری میں گراؤنڈ کے اندر دھماکے کے باوجود لاہور میں اے ایف سی انڈر 16 کوالیفائرز کا انعقاد ہوسکتا ہے، جب پاکستان بیس بال فیڈریشن سر ی لنکا، افغانستان، بھارت سمیت دوسری غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان بلا سکتی ہے، جب یہاں پر انٹرنیشنل سکواش مقابلے ہو سکتے ہیں، جب پی ایف ایف بحرین سے شاملان کو بلا کر قومی فٹبال ٹیم کا کوچ بنا سکتا ہے اورجب پی سی بی خود ڈیوڈ واٹمورکو آسٹریلیا اور جولین فاؤنٹین کو انگلینڈ سے بلا کر ان سے قومی ٹیم کی کوچنگ کروا سکتا ہے تو انٹرنیشنل ٹیموں کو پاکستان میں مدعو کر کے انٹرنیشنل کرکٹ کا میلہ کیوں نہیں سجایا جا سکتا۔ بات بڑی سیدھی سادھی ہے کہ جب کچھ کرنے کا جذبہ ہی مفقود ہو تو بہتر نتائج کیونکر حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

[email protected]

مقبول خبریں