سپریم کورٹ کا جرمانہ ادا نہ کرنے پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ پر اظہار برہمی

اگر یہی رویہ رکھا تو حکم دیں گے کہ جرمانہ آپ کی جیب سے جائے، عدالت کا ایڈیشنل ایڈدوکیٹ جنرل سندھ پر اظہاربرہمی


ویب ڈیسک November 05, 2020
اگر یہی رویہ رکھا تو حکم دیں گے کہ جرمانہ آپ کی جیب سے جائے، سپریم کورٹ۔ فوٹو:فائل

عدالت کی جرمانہ کی رقم ادا نہ کرنے پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ پر اظہار برہمی کیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینئر ممبر آف رینیویو نے سندھ بھر میں آبپاشی کے پلانٹس کی ملکیت حکومت سندھ کی ملکیت میں دینے کا حکم دیا تھا، سپریم کورٹ میں محکمہ آبپاشی و بورڈ آف رینیو سندھ تنازعہ کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر معاونت نہ کرنے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر 50 ہزار روپے جرمانہ کیا تھا، تاہم ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف پیش کیا کہ جرمانہ ادا نہیں کر سکتے، فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

عدالت نے جرمانہ کی رقم ادا نہ کرنے پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کو نہ کیس کا کچھ پتہ ہے نہ اپنے موکل کا معلوم ہے، کیا سپریم کورٹ کا جرمانہ کا فیصلہ بے معنی ہے، عدالت کے فیصلے کو معنی خیز بنانا جانتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جرمانہ آپ کی جیب سے ادا نہیں ہونا، اگر یہی رویہ رکھا تو حکم دیں گے کہ جرمانہ آپ کی جیب سے جائے۔

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ ، بورڈ آف رینیو کے افسران کی غیر حاضری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کہاں ہیں؟ انہیں عدالت بلا کر لائیں۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اراضی قوانین میں غیر معروف الفاظ کے استعمال پر اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ گورا، کالاسمیت مختلف جو الفاظ استعمال ہوئے ان کا مقصد کیا ہے؟۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ سندھی الفاظ سندھیوں کیلئے قابل فہم ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ سینئیر ممبر بورڈ آف ریونیو کے حکم بارے کسی کو علم نہیں، ممبر بورڈ آ ف ریونیو نے فریقین کو بتانے کی بھی زحمت نہیں کی، بیوروکریسی کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں جو چاہے کرے، ڈی سی نے زمین ایکوائیر کرنے کا متعلقہ فریقین کو بتایا بھی نہیں، ڈی ایچ اے کی زمین ایسے کیوں نہیں لیتے ؟۔

سپریم کورٹ نے کیس نمٹاتے ہوئے کلیکٹر لینڈ کو بھجوا دیا، اور کلیکٹر لینڈ کو معاملہ قانون کے مطابق حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو اراضی سے متعقل قوانین میں شامل سندھی الفاظ کو عام فہم بنانے کی بھی ہدایت کردی۔