اندرون ملک سے آنیوالے گداگر خاندانوں نے فٹ پاتھوں پر ڈیرے ڈال دیے

مضافاتی علاقوں سے غربت کےباعث آنیوالےخانہ بدوش خاندانوں کی خواتین کی بڑی تعداد نےشہر بھر میں بھیک مانگنےکو پیشہ بنالیا


Staff Reporter December 26, 2013
خانہ بدوش سڑکوں پر رہتے ہیں،پوش علاقوں اورکاروباری مراکزمیں گداگرخواتین بچوں کے ہمراہ بھیک مانگتی ہیں،مرد صرف آرام کرتے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

غربت، مہنگائی اوربے روزگاری کے باعث ملک کے مضافاتی علاقوں سے خانہ بدوش خاندانوں کی خواتین کی بڑی تعداد نے شہر میں ڈیرے ڈال کر بھیک مانگنے کو پیشہ بنالیا ہے ۔

ان خواتین کی بڑی تعداد بھیک مانگنے کی آڑ میں مبینہ طور پر منفی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے،ایکسپریس سروے کے مطابق پاکستان میں گداگری کا پیشہ قدیم ہے، ملک کی مساجد، مزارات ، چرچز اور مندروں کے گرد بھکاریوںکی کثیر تعداد نظر آتی ہیں جس میں اکثریت خواتین، بچے اور بوڑھوں کی ہوتی ہے، غربت، مہنگائی، ناخواندگی اور روزگار کے مواقع کم ہونے کے باعث اندرون ملک کے کئی علاقوں سے غربت اور بھوک و افلاس سے تنگ افراد روزگار کے لیے کراچی کا رخ کرتے ہیں ان میں خاص طور پر باگڑی خانہ بدوش کراچی کے مختلف مضافاتی علاقوں میں جھونپڑیوں اور کچے پکے مکانوں میں قبیلوں کی صورت میں رہتے ہیں۔



ان علاقوں میں چنیسر گوٹھ، کالا پل، نیلم کالونی، مچھر کالونی، شاہ رسول کالونی،ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ، اورنگی ٹائون،اتحاد ٹائون،سرجانی ٹائون،بلاول گوٹھ، سہراب گوٹھ اور ضیا الحق ٹائون میں رہائش پذیر ہوتے ہیں اور دن کے اوقات میں ٹولیوں کی صورت میں گھروں سے دور گنجان اور پوش علاقوں میں بھیک مانگنے نکل جاتے ہیں ان خاندانوں کے بیشتر مرد گھروں میں آرام کی زندگی گزارتے ہیں اور خواتین چھوٹے بچوں کے ہمراہ بھیک مانگنے جاتی ہیں، پوش علاقوں اور کاروباری مراکز میں خواتین گداگروں کی کثیر تعداد بچوں کے ہمراہ بھیک مانگنے میں مصروف عمل نظر آتی ہیں جن میں سی ویو،بوٹ بیسن،سٹی کورٹ،ڈیفنس،کلفٹن،طارق روڈ،بہادر آباد،حیدری مارکیٹ، ڈولمن مال، میلینئم مال،حسن اسکوائر،جوہر کمپلیکس،تاج کمپلیکس،صدر ،جامع کلاتھ،ٹاورز،حیدری مارکیٹ ،کراچی یونیورسٹی اور مرکزی مساجد اور مزارات کے اطراف کے علاقے شامل ہیں، بیشترگداگر خواتین بھوک و افلاس اور غربت سے تنگ آکر مختلف جرائم اور مبینہ طور پر منفی اور غیر اخلاقی سرگرمیوںمیں بھی ملوث ہوتی ہیں۔