حکومت نے ایل این جی بروقت نہ منگا کر عوام پر 122 ارب کا ڈاکا ڈالا لیکن نیب خاموش ہے سعید غنی

اگر نیب نے نوٹس نہ لیا تو ہم خود نیب میں ریفرنس جمع کرائیں گے، وزیر تعلیم سندھ و پی پی رہنما کی پریس کانفرنس


Staff Reporter December 06, 2020
دو روز قبل ان کے وزیر ندیم بابر نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر ہم آرڈر بروقت دے دئیے ہوتے تو ہمیں اربوں کی بچت ہوجاتی، رہنما پی پی (فوٹو : فائل)

وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایل این جی کی بروقت خریداری نہ کرنے اور گیس کے بجائے فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار پر اس قوم کی جیبوں پر 122 ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا لیکن نیب خاموش ہے، اگر نیب نے اس کا نوٹس نہ لیا تو ہم خود نیب میں ریفرنس جمع کرائیں گے۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز اپنے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اس بات کا سب اور خود وزیر اعظم کو بھی علم ہے اور خود وہ برملا اس بات کا چند ماہ قبل اظہار بھی کرچکیں ہیں لیکن اس کے باوجود ایل این جی کا آرڈز وقت پر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2018ء میں آرڈر کی تاخیر سے اس قوم پر 10 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا گیا، 2019ء میں بروقت آرڈر تو دیا گیا لیکن بجلی کی پیداوار ایل این جی کے بجائے فرنس آئل سے کی گئی اور اس قوم کو 50 ارب روپے کا بلز کی زیادتی کی مد میں ٹیکہ لگایا گیا، 2020ء میں ایک بار پھر ایل این جی کے آرڈرز تاخیر سے دئیے گئے جس سے اس ملک کے خزانہ اور عوام پر 37 ارب روپے کا زائد بوجھ ان نااہل وزیر اعظم اور ان کے دو وزرا ندیم بابر اور عمر ایوب نے ڈالا جبکہ ایل این جی کے دو ٹرمینل کی مد میں 25 ارب روپے کا بوجھ اس قوم پر ڈالا گیا۔

سعید غنی نے کہا کہ نیب ایک جانب کسی اخبار کی جھوٹی خبر کو جواز بنا کر سیکریٹری تعلیم کو تو نوٹس دے دیتا ہے لیکن اربوں روپے کی واضح کرپشن اور تمام تر شواہد کے باوجود خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، ہم کچھ روز انتظار کرتے ہیں کہ چہرے کو نہیں کیس کو دیکھ کر کارروائی کرنے کے دعوے دار چیئرمین نیب تمام شواہد کے بعد بھی کوئی کارروائی کرتے ہیں یا نہیں ورنہ ہم خود اس کا ریفرنس بنا کر تمام شواہد کے ساتھ نیب کو پیش کریں گے۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ سیلکٹیڈ وزیر اعظم اور ان کے نالائق وزراء نے اپنے اے ٹی ایم کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے لیے چینی، آٹا، گندم اور پیٹرول جیسے اسکینڈل بنائے اور تمام تر شواہد کے باوجود 2 سال کے دوران ملک کے خزانے اور عوام پر اضافہ 1000 ارب روپے کے زائد بوجھ ڈالے اور اس پر نیب کی خاموشی ہمیں نیب نیازی گٹھ جوڑ معلوم ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 11 نومبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں خود عمر ایوب سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایل این جی کے آرڈر بروقت کیوں نہیں دئیے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی آلو پیاز تھوڑی ہیں لیکن آج سے دو روز قبل ان ہی وزیر ندیم بابر نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر ہم آرڈر بروقت دے دئیے ہوتے تو ہمیں اربوں کی بچت ہوجاتی۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کے خاندان سمیت تمام ان کے وزراء نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا اور ان کی خفیہ پراپرٹیز ثابت ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں