مسلم آباد ہائیڈرنٹ دوبارہ کھولنے کیخلاف دعوے پر حکم امتناع جاری

موجودہ پالیسی کے تحت ایک وقت میں ایک ٹائون میں ایک ہی ہائیڈرنٹ جاری رہ سکتا ہے


Staff Reporter September 08, 2012
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر شہر بھر کے ہائیڈرنٹس بند کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور دوسری طرف مسلم آباد ہائیڈرنٹ دوبارہ کھولنے کی تیاریاںکی جارہی ہیں، مدعی۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

لاہور: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے مسلم آباد ہائیڈرنٹ دوبارہ کھولنے کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے تاحکم ثانی حالت جوں کی توں برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

مدعی عمران محمود نے محمود عالم اور عبیدالرحمن ایڈووکیٹس کے توسط سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ انھیں جمشید ٹائون کی حدود میں منظور کالونی میں ہائیڈرنٹ چلنے کی اجازت دی گئی ہے اور موجودہ پالیسی کے تحت ایک وقت میں ایک ٹائون میں ایک ہی ہائیڈرنٹ جاری رہ سکتا ہے لیکن17اگست کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مسلم آباد میں 32کنکشنز کا ہائیڈرنٹ دوبارہ کھولنے کے لیے ٹینڈر نوٹس جاری کیا ہے۔

مدعی کے مطابق ایک جانب کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر شہر بھر کے ہائیڈرنٹس بند کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور دوسری طرف مسلم آباد ہائیڈرنٹ دوبارہ کھولنے کی تیاریاںکی جارہی ہیں، اس رویے سے ادارے کے بارے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں ، مدعی نے دعوے میں موقف اختیارکیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ مسلم آباد ہائیڈرنٹ اس حالت میں دوبارہ کھولنا چاہتا ہے جب کہ سندھ ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ 2008میں اسے علاقے سے ہٹانے کا حکم جاری کرچکا ہے اس فیصلے کے وقت ادارے کے موجودہ ایم ڈی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے اور وی آئی پیز کو پانی ٹینکرز کے ذریعے فراہم کرنے کے لیے محض دو کنکشن کی اجازت طلب کی گئی تھی لیکن عدالت نے مکمل طور پر یہ ہائیڈرنٹ ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے بینچ کو بتایا کہ مسلم آباد اور اسکے قریبی علاقوں خداداد کالونی وغیرہ میں نئی سڑکیں بنی ہیں جو ٹینکرز کی آمدورفت سے تباہ ہوجائینگی، فاضل بینچ نے ان کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد فریقین کو حالت جوں کی توں برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی، سندھ ہائیکورٹ نے نومسلم خاتون کو اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی اور متعلقہ پولیس کو شادی شدہ جوڑے کو تحفط فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ، درخواست گزار ثنا نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ وہ بالغ ہے۔

اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اس نے اسلام قبول کیا ہے اور مسلم معاشرے میں رہنے کے لیے اس نے اپنی مرضی سے دھابیجی ٹھٹھہ کے آزاد کھوسو سے شادی کی ہے ،اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور 27اگست کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوکر اپنی آزادانہ مرضی کا اظہار کیا تھا، تاہم اس شادی سے اہل خانہ ناراض ہوگئے اور انھوں