مزدوروں کی رجسٹریشن کاکوئی نظام موجودنہیںمقررین

لیبرقوانین پرعمل درآمداورمحنت کشوںکی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کی جائے۔


Numainda Express September 08, 2012
لیبرقوانین پرعمل درآمداورمحنت کشوںکی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کی جائے, فوٹو: اے ایف پی

BISHKEK: حکومتی سطح پر مزدوروں کی رجسٹریشن کاکوئی نظام موجودنہیں ہے اور جمہوری حکومت میں بھی مزدوروںکااستحصال کیاجا رہا ہے۔

جبکہ غربت، مفلسی اور بیروزگاری کے باعث ہزاروں خواتین کم تنخواہ پرمحنت مزدوری کرنے پرمجبور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ساتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایچ آرسی پی دفتر میں منعقدہ سیمینار میں مقررین نے کیا جس کا عنوان مزدروں کے مسائل اورانکا حل تھا۔ غلام مصطفٰے بلوچ، پنھل ساریو، فیاض گوہر، عبدالحفیظ جتوی، رحیمہ بجیر، جمن انصاری اوردیگر کا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کارخانوں، فیکٹریوں اور کھیتوں میںکام کرنے والے مزدوروں، کسانوں سمیت محنت کش خواتین نہ صرف اپنے حق سے محروم ہیں بلکہ وہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔

محنت کش طبقات کو اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کے جدوجہدکے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھی جدوجہدکرنی ہوگی۔ ان کا کہناتھاکہ کراچی، کوٹری، کشمور میں مختلف کارخانوں میں حق مانگنے والے مزدوروں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے اور سرکاری اداروں میں لوئرکلاس ملازمین کو ملازمتوں سے جبراً برطرف کیا جا رہاہے جوباعث مذمت ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں مزدروں کے حقوق اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کرایا جائے اور این جی اوز کی مشاورت سے مزدوروں کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کی جائے۔