ہفتہ رفتہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے کے باعث روئی کی قیمتوں میں تیزی

مقامی منڈیوں میں 200تا300 روپے اضافے سے بھائو 7200،اسپاٹ ریٹ200 روپے بڑھ کر 6800روپے فی من پر پہنچ گئے


Ehtisham Mufti December 30, 2013
جی ایس پی درجے کے بعد کھپت بڑھنے سے مقامی خریداری میں اضافہ ہوا اور بھارت سے درآمد بھی بڑھ گئی، احسان الحق۔ فوٹو: فائل

مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی خریداری سرگرمیاں بڑھنے کے سبب گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان غالب رہا۔

اس تیزی میں بھارتی کپاس کی پیداوار میںغیر معمولی کمی اورامریکا میں کپاس کی برآمدات سے متعلق مثبت رپورٹ کا اجرا بھی شامل ہے جس کی اطلاعات کے بعد دنیا بھرمیں روئی کی قیمتوں میں تیزی رونما ہوئی، کپاس کے بیوپاریوں کو توقع ہے کہ گزشتہ ہفتے کی تیزی رواں ہفتے بھی برقرار رہ سکتی ہے، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس' 'کو بتایا کہ عالمی سٹے بازبھارتی کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کو بنیاد بنا کر رواں سال سٹے بازی کا کھیل رہے ہیں لیکن عالمی سٹے بازوں کی جانب سے بھارت میں 2013-14 کے دوران کپاس کی ریکارڈ پیداوار کو بنیاد بنا کر کھیلا جانے والا کھیل گزشتہ ہفتے اس وقت دم توڑ گیا جب کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) کی جانب سے جب یہ رپورٹ جاری کی گئی کہ 22دسمبر تک انڈیا بھر میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار 84لاکھ 31ہزار بیلز رہی جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارڈ 13.52 فیصد کم ہے جس کے بعد بھارت اور نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آ گیا۔

یاد رہے کہ قبل ازیں رواں سال بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں 4سے 5فیصد زیادہ ہونے بارے رپورٹس جاری کی جاتی رہی ہیں جس کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں رواں کاٹن ایئر کے دوران روئی کی قیمتوں میں سٹے بازوں کی جانب سے مسلسل مندی کا رجحان قائم رکھنے کی کوشش کی گئی جو اب تقریباً دم توڑ گئیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعد رواں سال متوقع طور پر 10سے 12ہزار روئی کی بیلز کی اضافی کھپت کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان نے پاکستان سے روئی خریداری میں اضافے کے ساتھ ساتھ بھارت سے بھی روئی کی درآمد میں اضافہ کر دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان اب تک بھارت سے تقریباً 70ہزار روئی کی بیلز کے درآمدی معاہدے مکمل کر چکے ہیں اور توقع ہے یہ بیلز جنوری کے پہلے دوسرے ہفتے میں پاکستان پہنچنا شروع ہو جائیں گی۔



انہوں نے بتایاکہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے مذکورہ روئی 82سے 84سینٹ فی پائونڈ تک خریدی ہے تاہم اب بھارت میں بھی برآمدی روئی کی قیمتیں 86سے 87سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 200سے 300روپے فی من اضافے کے بعد 7ہزار 200روپے فی من تک پہنچ چکی ہیں جبکہ نیویارک کاٹن ایکس چینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران حاضر ڈلیوری روئی کے سودے معمولی کمی بیشی کے ساتھ 88.25 سینٹ فی پائونڈ جبکہ مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 0.97 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 84.12سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ گئے ۔بھارت میں روئی کے سودے 538روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 40ہزار 101کینڈی ،چائنہ میں جنوری ڈیلوری روئی کے سودے 50یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 18ہزار 900یوآن فی ٹن تک پہنچ گئے جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 200روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 800روپے فی من تک پہنچ گئے۔

احسان الحق نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق چین نے روئی ذخائر کرنیوالے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق چین اب کسانوں سے روئی خرید کر ذخیرہ کرنے کی بجائے براہ راست کسانوں کو سبسیڈی ادا کرے گا تاہم اس پالیسی کا حتمی اعلان آئندہ چند روز تک متوقع ہے۔انہوں نے بتایاکہ پاکستان کو یورپی یونین سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعد توقع ہے کہ 8سے 10جنوری تک جرمنی میں منعقد ہونے والے ٹیکسٹائل فیئر میں پاکستان کو اس دفعہ بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل پروڈکٹس کے برآمدی آرڈر ملنے کی توقع ہے جس کے باعث رواں سال اس ٹیکسٹائل فیئر میں پاکستان کی 226سے زائد ٹیکسٹائل ملز شرکت کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں کمی واقع ہونے کے بعد رحیم یار خان سمیت بیشترشہروں میں جننگ فیکٹریوں کی بندش کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے ۔

مقبول خبریں