گرینڈ جمہوری مکالمہ کی ضرورت

ایم کیوایم، پیپلز پارٹی اوردیگر سیاسی جماعتوں سے یہی گزارش ہے کہ وہ عصری حقائق کے چیلنجز سے نمٹنے کیلیے خدارا متحد ہوں


Editorial January 04, 2014
امید کی جانی چاہیے کہ سیاست داں تدبر و دوراندیشی اور حکمت و دانائی سے معمور سیاسی طرز فکر کو فروغ دیں گے. فوٹو: آن لائن/فائل

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پیپلزپارٹی اور قوم پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اردو بولنے والے شہری سندھی آبادی کو مکمل سندھی تسلیم نہیں کرتے تو پھر اردو بولنے والے نئے سندھیوں کے لیے الگ صوبہ بنا دیا جائے، ابھی موقع ہے کہ بات چیت کے ذریعے یہ عمل مکمل کر لیا جائے کیونکہ یہ عمل آج نہیں توکل پوراکرنا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایم کیو ایم کی انتخابی مہم کے سلسلے میں حیدرآباد کے باغ مصطفی گراؤنڈ لطیف آباد نمبر آٹھ میں منعقد ہونے والے پہلے انتخابی جلسہ عام سے لندن سے مواصلاتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کے اس بیان نے جہاں سندھ سمیت ملکی سیاسی حلقوں میں ایک ارتعاش پیدا کردیاہے وہاں امکان اور خدشہ اس بات کا بھی ہے کہ کہیں ایک بار پھر نئے صوبوں کی انتظامی یا کسی اور بنیاد پر تشکیل کا نیا پینڈورا باکس نہ کھل جائے۔

چنانچہ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن)، اے این پی سمیت مختلف سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خطاب پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے خلاف سازش اور افراتفری پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ الطاف حسین فوراً اپنا بیان واپس لیں ،اور متنبہ کیا کہ بصورت دیگر پیر کو سندھ بھر میں ہڑتال ہوگی ۔ پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ مر جائیں گے لیکن سندھ نہیں دینگے جب کہ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ الطاف حسین کی حیدر آباد جلسے کی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ قومی سطح پر ہر ذی شعوراور محب وطن پاکستانی ملک کو درپیش خطرات اور بحرانوں سے پریشان اور دل گرفتہ ہے،اس کی خواہش ہے کہ ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کے تہلکہ خیز نشیب وفراز میں ایسی کوئی نئی بحث یا نئی اکائیوں کے انتظامی یا لسانی تشکیل کے قیام جیسے حساس معاملات میں قوم کو الجھایا نہ جائے بلکہ کوشش کی جائے کہ سیاسی قیادتیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ، سیاسی ایجنڈے اور نعروں سے گریز کریں، مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا آبرومندانہ اور منصفانہ و پائیدار حل تلاش کریں ۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ سیاسی قیادتیں سماجی تبدیلی اور عوام کو ریلیف مہیا کرنے اور سسٹم کو مستحکم کرنے کی بجائے ہمیشہ مورد الزام اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔ملک بدنام ہورہا ہے کہ ہمارے سیاست دان مسائل اٹھاتے تو شوق سے ہیں مگر جب حل کا وقت آتا ہے تو خود مظلوم بن جاتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا حکومت نے پیسکو کو حوالے کرنے کا انقلابی مطالبہ کیا جب وزیراعظم نے ان کو ادارہ سنبھالنے کی پیش کش کی تو وہ مکر گئی اور موقف یہ اختیار کیا کہ پورے واپڈا کا انتظام چاہیے جو وفاقی ادارہ ہے۔

اصل میں نئے صوبوں کاایشو 2013ء کے انتخابات سے قبل اورپی پی دور حکومت میں اٹھایا گیا تھا، پنجاب کو ایک یا دوصوبوں میں تقسیم کا مطالبہ کیا گیا، ایم کیو ایم ، اے این پی اور دیگر جماعتیں بھی اس مطالبے میں شامل تھیں ،اس وقت بھی ملک کے فہمیدہ اور سنجیدہ حلقوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ پینڈورا باکس نہ کھولا جائے، مسائل گمبھیر ہوجائیں گے، مگر اسی دوران ہزارہ صوبہ کی تحریک کی لہر نے شدت اختیار کی ،اے این پی نے اس کی مخالفت کی ، ادھر سندھ میں اچانک ایک تنظیم کے مہاجر ریپبلکن آرمی کے نام سے میڈیا میں نئے صوبہ کے قیام کا مطالبہ سامنے آیا جسے ایم کیو ایم نے رد کیا اور یہ واضح کیا کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی۔بلاشبہ دنیا بھر میں نئے صوبے انتظامی ضرورت کے تحت بنتے ہیں، اور یہ کوئی انوکھا یا متنازعہ مسئلہ نہیںکہ اسے سیاسی ایشو بنایا جائے۔ تاہم ترقی یافتہ معاشروں میں صوبوں ، جمہوری اور بلدیاتی اداروں کا استحکام کسی بحران یا خلفشار کا سبب نہیں بنتا، امریکا، برطانیہ ،بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ریاستی اور صوبائی اکائیاں قائم ہیں ، متحرک و فعال کاؤنٹیز ہیں جو عوامی مسائل کے حل کے لیے مین اسٹریم جمہوری سیٹ اپ کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور عوام کو جواب دہ ہیں۔

ہارے ارباب اختیار اور سیاسی جماعتوں کو ادراک کرنا چاہیے کہ سندھ بھی پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی طرح ایک اکائی ہے ، ان سب کے بے پناہ مسائل ہیں جنھیں حل کرنے کے لیے وفاق و صوبوںکے مابین اتحاد و اشراک عمل ضروری ہے۔ صوبے اپنی انتظامی کارکردگی بڑھائیں، پہلے سے موجود گراں بار مسائل کا بوجھ کم کریں ،عوام کو لوڈ شیڈنگ ، بیروزگاری ، مہنگائی اور بد امنی سے بچائیں ، ایشو تواٹھتے ہی حل ہونے کے لیے ہیں، چہ جائیکہ تند وتیز بیانات سے مسائل میں اضافہ کیا جائے ۔ جہاں تک سندھ کے فوری مسئلہ کا تعلق ہے وہ بلدیاتی انتخابات سے قبل آرڈیننس کا اجرا تھا، جسے ایم کیو ایم سمیت تحریک انصاف،جماعت اسلامی ، فنکشنل لیگ اور قوم پرست جماعتوں نے مسترد کیا، اس معاملہ کو سندھ اسمبلی کے فورم پر حل ہونا چاہیے تھا،پی پی کا پرانے بلدیاتی نظام پر اصرار اور اس کے شدید جذباتی رد عمل میں متحدہ کے قائد الطاف حسین کا نئے صوبہ کا مطالبہ پیش کرنے کے بعد اب ناگزیر ہے کہ مفاہمت کے لیے گرینڈ جمہوری مکالمہ کی طرف رجوع کیا جائے تاکہ سندھ سمیت دیگر صوبوں میں عوام کو در پیش مسائل کے حل کے لیے حکومت پر زور دیا جائے۔

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے کہتے ہیں کہ خدا کی قسم شہری سندھی صوبے کا مطالبہ واپس ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے ٹیبل پر بیٹھ کر ہر شعبے میں50/50 فیصد حصہ دینے کا معاہدہ کر لیں ۔ انھوں نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے کہا کہ اگر پاکستان بچانا ہے تو وہ سندھ آئیں اور مداخلت کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پہلے ہی یہ پیشکش کرچکے تھے کہ نئے انتظامی یونٹوں کی تشکیل کے لیے قومی کمیشن بنایا جائے۔لیکن ان کی اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور سیاست میں پوائنٹ اسکورنگ کا رجحان بڑھتا چلا گیا۔ اسی طرز سیاست نے کالا باغ ڈیم کو متناعہ بنادیا جب کہ ملک میں سیاسی رواداری اور باہمی خیر سگالی کے خوش آئندمنظر نامہ کی تعمیر کا یہی وقت ہے، اختلاف رائے جمہوریت میں بری بات نہیں ،مگر عوام جمہوری عمل کے ساتھ اپنی زندگیوں میں انقلابی تبدیلی چاہتے ہیں۔دلچسپ حسن اتفاق ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری 2015ء میں انقلاب آنے کی نوید دے رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ میں پاکستان میں خلافت راشدہ کی جھلک دیکھنا چاہتا ہوں۔

امید کی جانی چاہیے کہ سیاست داں تدبر و دوراندیشی اور حکمت و دانائی سے معمور سیاسی طرز فکر کو فروغ دیں گے، الجھنیں ختم کریں گے ، قومی یکجہتی ، معاشی و سیاسی استحکام کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر بنائیں گے تاکہ دشمنان پاکستان کو ہمیں فروعی اوراندوہ ناک داخلی اختلافات کے گورکھ دھندوں میں پھنسانے کو کوئی موقع نہ مل سکے۔ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے یہی گزارش ہے کہ وہ عصری حقائق کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خدارا متحد ہوں ۔ معاشرے کی شیرازہ بندی کریں، صوبوں میں اشتراک عمل بڑھے گا تو پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی دو چند ہوگی ۔عوام خوشحال ہوجائیں گے۔یہ برا سودا نہیں ہے۔