سچللینڈ مافیا کیخلاف آپریشن میں پولیس اہلکار جاں بحققبضہ مافیا کے30 کارندے گرفتار

عدالتی حکم پرانسداد تجاوزات کا عملہ اور پولیس شاہ نواز شرگوٹھ میں 10 ایکڑ زمین کا قبضہ چھڑانے گئی تھی


Staff Reporter January 05, 2014
فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں پولیس نے30 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ۔ فوٹو: فائل

سچل میں عدالت کے حکم پر لینڈ مافیا سے زمین خالی کرانے کے لیے جانے والی پولیس کی بھاری نفری پر ملزمان نے فائرنگ کردی ۔

جس کے نتیجے میں پولیس ہیڈکانسٹیبل جاں بحق جبکہ2 کمسن لڑکیاں زخمی ہوگئیں،پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کے بعد 30 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیکر اسلحہ برآمد کرلیا، تفصیلات کے مطابق سچل میں پولیس کی بھاری نفری عدالتی حکم پر اینٹی انکروچمنٹ سیل اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی انسداد تجاوزات کے عملے کے ہمراہ شاہ نواز شر گوٹھ میں زمین کا قبضہ چھڑانے پہنچی جہاں پہلے سے مورچہ بند لینڈ مافیا کے کارندوں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کردی ۔

جس کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل 35 سالہ محسن خان ولد سیف اﷲ خان شدید زخمی ہوگیا جسے تشویشناک ناک حالت میں اسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر13 سالہ بختاور اور9 سالہ کوثر زخمی ہوگئیں جنھیں طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لے جایا گیا، ایس ایچ او سچل انسپکٹر شوکت علی نے بتایا کہ قبضہ کی گئی10ایکڑ زمین کو خالی کرائے جانے



کے دوران فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں پولیس نے30 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ متعدد افراد کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، پولیس کی جانب سے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس کے بعد صورتحال پر قابو پایا جا سکا انھوں نے بتایا کہ مذکورہ 10 ایکڑ زمین پر مارفانی گروپ کا قبضہ تھا جسے پولیس نے واگزار کرالیا ہے، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لینڈ مافیا کی جانب سے شدید فائرنگ کے باعث اینٹی انکروچمنٹ سیل پولیس کے اہلکار گھبراکر موقع سے غائب ہوگئے اور بعدازاں جب علاقہ پولیس نے صورتحال پر قابو پایا تو وہ دوبارہ موقع پر پہنچ گئے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول ہیڈ کانسٹیبل محسن خان ایس آر پی بیس ٹو کا اہلکار اور شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں تعینات تھا جو لینڈ مافیا کے خلاف کیے جانے والے آپریشن میں اضافی نفری طلب کیے جانے پر آیا تھا جبکہ وہ لانڈھی مظفر آباد کالونی کا رہائشی تھا اور 4 بچوںکو باپ تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق لکی مروت سے بتایا جاتاہے،سچل پولیس نے ہیڈ کانسٹیبل کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔