کک نے انگلش ٹیم میں نئی جان ڈالنے کا چیلنج قبول کرلیا

بورڈ کے اعتماد سے حوصلے بلند ہوگئے، بکھری ٹیم کو جوڑوں گا، انگلش قائد


Sports Desk January 06, 2014
بورڈ کے اعتماد سے حوصلے بلند ہوگئے، بکھری ٹیم کو جوڑوں گا، انگلش قائد۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

انگلش کپتان الیسٹرکک نے ٹیم میں پھر سے جان ڈالنے کا چیلنج قبول کرلیا، بورڈ کی جانب سے ملنے والے اعتماد کے ووٹ سے حوصلے بلند ہوگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں بکھری ہوئی ٹیم کو پائوں پر کھڑا کرنا جانتا ہوں۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے ہاتھوں ایشز سیریز میں وائٹ واش کا شکار ہونے والی انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم بری طرح بکھر چکی ہے جس کو سمیٹنے کی ذمہ داری کپتان الیسٹرکک قبول کرچکے ہیں، گذشتہ روز بورڈ نے انھیں اعتماد کا ووٹ دیتے ہوئے بطور کپتان کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ کک کا کہنا ہے کہ مجھے بورڈ نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے فٹبال میں عام طور پر اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس چیزوں کو سدھارنے کیلیے 15 دن کا وقت ہے اس کے بعد آپ اپنا راستہ پکڑ سکتے ہیں، میں چیزوں کو بدلنے کیلیے پرعزم ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اس کام کے لیے میں ہی سب سے موزوں آدمی ہوں اگر ایسا نہ ہوتا تو اوپر جو لوگ بیٹھے ہیں وہ ضرور تبدیلی لے آتے۔

 photo 3_zpsdb1d49e8.jpg

کک کا کہنا ہے کہ میں کافی تجربہ کار پلیئر ہوں، میںاس سے قبل اس ٹیم کا بھی حصہ تھا جسے 2006-07 میں وائٹ واش شکست ہوئی تھی، اس لیے میں جانتا ہوں کہ ایسی ہزیمت کا شکار ہونے کے بعد ٹیم کو کیسے سنبھالا جاسکتا ہے، ہمیں اس سیریز میں کچھ مثبت چیزیں بھی ملی ہیں خاص طور پر آل رائونڈ بین اسٹوکس اور فاسٹ بولر اسٹورٹ براڈ نے بہتر کھیل پیش کیا، اسٹوکس کی وجہ سے ہماری ٹیم متوازن ہوتی ہے، میرے خیال میں اس ٹور میں وہ ہمارے لیے ایک اچھی دریافت ہیں۔ یاد رہے کہ خود کک کی پرفارمنس انتہائی مایوس کن رہی، انھوں نے سیریز میں 24.60 کی اوسط سے 246 رنز بنائے، ان کا کہنا ہے کہ جب آپ 5-0 سے سیریز ہارتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹیم میں کئی جگہیں دستیاب ہیں، اس سے نئے پلیئرز ٹیم میں شامل ہونے کیلیے اپنی کوششیں تیز کرتے ہیں وہیں پرانے کھلاڑیوں کو جگہ بچانے کیلیے اپنے کھیل میں بہتری لانا پڑتی ہے۔