خطےمیں اسلحے کے خریدار ممالک میں بھارت سرفہرست

ایک عشرے بعد دنیا میں اسلحے کی فروخت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا


ویب ڈیسک March 15, 2021
ایک عشرے بعد دنیا میں اسلحے کی فروخت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا

کورونا وبا کے باعث ایک دہائی بعد اسلحے کی فروخت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ خطے میں اسلحے کے بڑے خریدار ممالک میں بھارت کا نام سرفہرست ہے۔

اسلحے کی تجارت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنینشل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(ایس آئی پی آر آئی) نے 2016 سے 2020 تک کی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 2001-05 کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دنیا میں اسلحے کی فروخت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

اس کی وجہ یہ رہی کہ اگرچہ اسلحہ بیچنے والے 3 بڑے ممالک امریکا، فرانس اور جرمنی کے اسلحے کی فرخت میں تو اضافہ ہوا لیکن روس اور چین کے اسلحے کی برآمد میں کمی ہوگئی جس کے باعث اسلحے کی مجموعی فروخت میں کمی بیشی نہیں ہوئی اور ایسا 10 سال بعد ہوا ہے، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایشیا اور اوشیانا وہ خطے ہیں جو دنیا کا سب سے زیادہ 42 فیصد اسلحہ درآمد کرتے ہیں جن میں بھارت سرفہرست ہے جبکہ آسٹریلیا، چین، جنوبی کوریا اور پاکستان بھی بڑے خریدار ممالک میں شامل ہیں۔

کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور متعدد ممالک آئندہ سالوں میں اسلحے کی خریداری پر نظرثانی کرسکتے ہیں لیکن کورونا وبا کے عروج کے دوران بھی متعدد ممالک نے اسلحے کے بڑے سودے کیے جن میں متحدہ عرب امارات شامل ہے جس نے امریکا سے 50 ایف 35 لڑاکا طیارے اور 18 مسلح ڈرونز کی خریداری کا 23 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔ اسی طرح سعودی عرب بھی پیچھے نہیں رہا جس کی اسلحہ درآمدات میں 61 فیصد جبکہ قطر کی درآمدات میں 361 فیصد اضافہ ہوا۔

دنیا میں اسلحے کی تجارت میں چین کا حصہ 5.2 فیصد ہے جبکہ پاکستان، بنگلہ دیش اور الجزائر چینی اسلحے کے بڑے خریدار ممالک ہیں۔