ملیریا کا ایک منٹ ٹیسٹ روایتی ٹیسٹ سے بھی مؤثر ثابت

برازیل میں گزیل نامی آلہ صرف ایک منٹ میں ملیریا کی درست ترین شناخت کرکے کئی جانیں بچانے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔


ویب ڈیسک March 16, 2021
تصویر میں ایک خاتون کم خرچ گزیل ٹیسٹ کٹ کے ساتھ موجود ہیں جو فوری طور پر ملیریا اور سِکل سیل مرض کی شناخت کرسکتا ہے اور کئی ممالک میں اس کے کامیاب تجربات کئے گئے ہیں۔ فوٹو: ہیمیکس ہیلتھ

طبی سائنس میں انقلابی تبدیلی کے باوجود ملیریا اب بھی کئی خطوں میں دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اب ایک منٹ میں تنائج دکھانے والا نیا ٹیسٹ اپنی افادیت اور تاثیر میں روایتی ٹیسٹ سے بھی آگے نکل چکا ہے۔

اس ٹیسٹ آلے کا نام گزیل رکھا گیا ہے جو درست ترین، کم قیمت اور استعمال میں بھی آسان ہے۔ اس کی بیٹری ایک مرتبہ چارجنگ پر پورے دن کام کرتی رہتی ہے اور بالخصوص غریب اور کم وسائل کے علاقوں کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک منٹ میں نتائج فراہم کرنے والا یہ نظام روایتی اور مصدقہ ٹیسٹ سے کئی گنا تیز اور بہتر بھی ہے۔

برازیل میں بڑے پیمانے پر اس کی اس کی آزمائش کی گئی ہے اور اس نے ریپڈ ڈائگناسٹک ٹیسٹ ( آر ڈی ٹی) کو بھی مات دیدیا ہے۔ یہاں تک کہ خردبینی طریقے سے پلازموڈیئم وائیوویکس (پی وائیویکس) کی شناخت کے مقابلے میں یہ ایک بہت مؤثر طریقہ ہے۔ اس کی تفصیلات ملیریا جرنل کی 12 مارچ کے جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس ضمن میں دوہرے ان دیکھے(ڈبل بلائنڈ) مطالعے میں 300 افراد پر گزیل کی آزمائش کی گئی ہے اور بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ برازیل کے اس علاقے میں پی وائیویکس ملیریا سے متاثر ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔

اس تحقیق میں شامل ماہر ، ڈاکٹر مارکس لیسرڈا کہتے ہیں کہ پی وائیویکس بہت سے ٹیسٹ سے شناخت نہیں ہوپاتا اور تباہی پھیلاتا رہتا ہے۔ اس میں علامات بار بار نمودار ہوتی رہتی ہیں اور انفیکشن مزید پھیلتا رہتا ہے۔ اب گزیل ٹیسٹ سے ہم ملیریا کے خاتمے اور اس کی شناخت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

پی وائیویکس ملیریا کئی ممالک میں عام ہے لیکن ملیریا کی دوسری قسم پی فیلکی پیرم سے کم ہلاکت خیز ہے تاہم یہ بھی شدید انفیکشن کی صورت میں موت کی وجہ بن سکتا ہے۔

آپٹیکل مائیکرواسکوپی کے مقابلے میں یہ ٹیسٹ 92 فیصد زائد مؤثر ہے ۔ اس طرح آرٹی ڈی طریقے سے 100 میں سے ملیریا کے 16 کیس شناخٹ سے چوک گئے جبکہ گزیل نے 100 میں سے صرف 4 کیسوں کی شناخت نہ کی۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس ٹیسٹ کے لیے کسی کولڈؑ چین کی ضرورت نہیں رہتی اور یوں یہ فوری طور پر روایتی ٹیسٹ کی جگہ لے سکتا ہے۔