روشنی و پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگیلیاری ایکسپریس وے پر جرائم پیشہ عناصر کا راج

رات کے اندھیرے کا فائدہ کر کالعدم تنظیمیں قرب وجوارکی آبادیوں میں اسلحہ اور منشیات باآسانی منتقل کردیتی ہیں


Staff Reporter January 10, 2014
پولیس موبائل کی گشت لیاری ایکسپریس وے پر بالکل نہیں ہوتی۔فوٹو:فائل

KARACHI: قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لیاری ایکسپریس وے پر نگرانی اور گشت کا نظام نہ ہونے کے باعث ایکسپریس وے اور ذیلی سڑکیں جرائم کی آماجگاہ بن گئی ہیں، اہم ترین شاہراہ پر اسٹریٹ لائٹس کا کوئی بندوبست نہیں، رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کالعدم تنظمیں قرب وجوار کی آبادیوں میں اسلحہ اور منشیات کی تقسیم کئی سال سے کررہی ہیں جبکہ جرائم پیشہ افراد مختلف علاقوں میں ڈکیتیاں وچوریاں کرکے لیاری ایکسپریس وے کی سروس روڈز اور انڈرپاسز کے راستے فرار ہوجاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لیاری ایکسپریس وے کا تعمیراتی کام 5سال سے التوا کا شکار ہے، 2008میں جنوبی حصہ ٹریفک کیلیے کھول دیا گیا تھا تاہم شمالی حصے اور سروس روڈزکا تعمیراتی کام ابھی تک نامکمل ہے، شمالی حصہ جزوی طور پر سرشاہ سلیمان روڈ سے سہراب گوٹھ تک ٹریفک کیلیے کھولا ہوا ہے، موٹر وے پولیس کے مطابق لیاری ایکسپریس وے جنوبی حصے پر سہراب گوٹھ سے ماڑی پور روڈ تک روزانہ 4 سے 5 ہزار گاڑیاں گذرتی ہیں، موٹر وے پولیس ضابطے کے تحت ٹریفک قوانین لاگو کرنے میں کوتاہی نہیں برتتی تاہم جرائم پیشہ افراد کی نقل وحرکت پر کنٹرول کرنا ڈسٹرکٹ پولیس کا کام ہے جو وقتا فوقتا تعاون فراہم کرتی ہیں تاہم نگرانی کا کوئی باضابطہ نظام نہیں ہے، نمائندہ ایکسپریس کے سروے کے مطابق لیاری ایکسپریس وے پر اسٹریٹ لائٹس کا کوئی انتظام نہیں ہے جبکہ ایکسپریس وے پر ذیلی سڑکوں سے آمدورفت روکنے کیلیے این ایچ اے کی جانب سے مختلف مقامات پر لگائی جانے والی باڑ بھی کاٹی جاچکی ہے، جنوبی وشمالی حصے کی سروس روڈز ناپختہ ہیں جس کی وجہ سے پولیس گشت کا باضابطہ نظام قائم نہیں ہے، پولیس موبائل کی گشت لیاری ایکسپریس وے پر بالکل نہیں ہوتی تاہم سروس روڈز پر جزوی طور پر ہوتی ہے۔



رات کے اوقات میں ایکسپریس وے اور سروس روڈز پر اندھیرے کا راج ہوتا ہے جو جرائم پیشہ افراد کیلئے نعمت سے کم نہیں ، ان وجوہات کے باعث ایکسپریس وے سے ملحقہ کچی آبادیاں جرائم کا اڈہ بن چکی ہیں، منشیات فروش کچی آبادیوں میں قائم اپنے اڈوں میں ایکسپریس وے کے راستے منشیات کی فراہمی کرتے ہیں، پولیس کے ناکے نہ ہونے کے باعث ڈکیت و چور گلشن اقبال، پیر الہی بخش کالونی، لیاقت آباد، تین ہٹی اور دیگر علاقوں میں جرائم کی وارداتیں کرکے باآسانی ایکسپریس وے کی سروسز روڈز اور انڈر پاسز کے راستے فرار ہوجاتے ہیں، ذرائع کے مطابق کالعدم تنظمیں اسلحہ کی تقسیم کیلیے یہی روٹ استعمال کرتی ہیں، دوسال قبل ایک کالعدم تنظیم کی جانب پیر الہیٰ بخش کالونی میں ایک سیاسی دفتر پر حملہ بھی ایکسپریس وے سے کیا گیا تھا ۔

ذرائع کے مطابق لیاری ایکسپریس وے پر اگر فوری طور پر جرائم پیشہ افراد کی نقل وحرکت کے نیٹ ورک کو نہیں توڑا گیا تو مستقبل میں یہاں سے مزید کوئی بڑی دہشت گرد کارروائی کی جاسکتی ہے، واضح رہے کہ لیاری ایکسپریس وے پر حفاظتی بندوبست نہ ہونے کے باعث جمعرات کو ایس پی چودھری اسلم عیسی نگری کے قریب لیاری ایکسپریس وے کے انٹری پوائنٹ پر خودکش حملے میں تین افراد سمیت ہلاک ہوگئے، گلشن اقبال، پی آئی بی کالونی، نفیس آباد ، لیاقت آباد کے مکینوں نے بتایا کہ ہمارے علاقوں میں رینجرز پولیس کا گشت جاری ہے لیکن ڈکیتیوں اور چوریوں کی وارداتوں میں کوئی کمی نہیں آئی اس کی سب سے بڑی وجہ لیاری ایکسپریس وے پراندھیرے کا راج اور پولیس چیکنگ کے نظام کا نہ ہونا ہے، انھوں نے کہاکہ سروس روڈز کے حساس مقامات پر رینجرز کی چوکیاں جبکہ لیاری ایکسپریس وے کے ہر انٹری پوائنٹ پر پولیس کی جانب سے گاڑیوں کی چیکنگ کا نظام قائم کرکے 16کلومیٹر لمبی شاہراہ کو جرائم سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔