بزرگ شہریوں کی اکثریت کورونا ویکسی نیشن کے لیے تیار ہی نہیں ڈاکٹر فیصل سلطان

ویکسی نیشن کے لیے رجسٹرڈ بزرگوں میں سے صرف 32 فیصد نے ہی ویکیسین لگوائی ہے، معاون خصوصی صحت


ویب ڈیسک April 01, 2021
عوام اپنی باری آنے پر کورونا کی ویکسین ضرور لگوائیں،ڈاکٹر فیصل سلطان فوٹو: فائل

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 60 برس سے زائد رجسٹر ہونے والوں میں سے صرف 32 فیصد نے ویکسی نیشن کروائی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپریسو سے خصوصی گفتگو کے دوران ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان تیزی سے رو بصحت ہیں، انہیں کہا گیا ہے کہ بتدریج مصروفیات کو بڑھائیں، صدر مملکت عارف علوی بھی بہتر ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر پہلی لہر کے برابر آچکی ہے، کورونا کے ایس او پیز پر عمل کا اثر بتدریج نظر آئے گا، اس کے اثرات نظر آنے میں 10 روز تک لگ جاتے ہیں، ایس او پیز پر عمل میں سختی کے باعث کے اثرات بھی وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی کافی نہیں کیونکہ کورونا کی تیسری لہر میں عوام کو انفرادی طور پر بہت زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس ہر صوبے میں ہر جگہ لوگوں کو ڈنڈے مار کر ماسک نہیں پہنا سکتی۔

کورونا ویکسی نیشن کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ 30 مارچ سے پہلے تک ملک میں کورونا ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں آچکی تھیں، جس میں سے 8 لاکھ خوراکیں لگائی جاچکیں، گزشتہ روز دو مختلف ویکسینوں کی 5 لاکھ 60 ہزار مزید خوراکیں آئی ہیں جب کہ آج بھی مزید 5 لاکھ خوراکیں آجائیں گی۔ اس طرح آج تک ملک میں کل 22 لاکھ خوراکیں آجائیں گی۔ ہم کورونا ویکسین چین سے ہی حاصل کررہے ہیں کیوںکہ دوسرے بین الاقوامی کنسورشیم کے ذریعے کروڑوں ویکسین کی خریداری کی جانی تھیں لیکن انہیں بھی ویکسین کی دستیابی میں مشکل کا سامنا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں ان کا انتطار کئے بغیر اپنا انتظام خود کرنا تھا۔

کورونا وائرس میں تبدیلی کے باعث ویکسین کی افادیت میں کمی سے متعلق ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ جب کسی وائرس کے خلاف ویکسین بنائی جاتی ہے تو وائرس کے اس حصے کے خلاف بنائی جاتی ہے جو تبدیل نہیں ہوتا ۔ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ اگر وائرس میں کوئی تبدیلی آئے تو ویکسین کا اس پر اثر ہو۔ کبھی کبھار ایسا ضرور ہوتا ہے کہ وائرس ایسی شکل اختیار کرلیتا ہے جس پر ویکسین اثر انداز نہیں ہوپاتی، اس وقت ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ہمارے ملک میں موجود کورونا وائرس پر ویکسین اثر نہیں کررہی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران ہم نے طبی بنیاد پر اپنی استعداد کار بڑھائی ہے ، اس کا ہمیں اب فائدہ ہورہا ہے لیکن اگر ہم نے حفاظتی اقدامات نہ کئے تو صحت کے شعبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کورونا وائرس بچوں پر بھی اثر کرتا ہے لیکن اس کے زیادہ مضر اثرات معمر افراد پر پڑتے ہیں۔ اگر معاشرہ احتیاط نہیں کرے گا تو یہ وائرس بچوں کے ذریعے بزرگوں تک پہنچ جائے گا۔

کوویڈ ویکسین کی قیمت کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی جانب سے درآمد کی گئی کورونا ویکسین پر انحصار نہیں کررہی، حکومت کی ویکسی نیشن کے حوالے سے حکمت عملی واضح ہے کہ ہم عوام کو ایک خاص طریقہ کار کے تحت عمر کے مطابق بتدریج ویکسین فراہم کریں گے۔ 99 فیصد ویکسی نیشن عمر اور پن کوڈ کے مطابق اور بالکل مفت ہورہی ہے۔ کچھ لوگوں کا موقف تھا کہ حکومت کی پالیسی کے تحت ان کی ویکسی نیشن میں کچھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت نے یہ اصولی فیصلہ کیا کہ ہم ویکسی نیشن کی درآمد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ اگر کچھ ادارے اس ویکسین کو درآمد کرسکیں تو یہ ملک کے ایک فیصد لوگوں کو بھی ویکسین فراہم نہیں کرسکتے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ فیس ماسک بیماری کے پیھلاؤ کو روکنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، عوام اپنی باری آنے پر کورونا کی ویکسین ضرور لگوائیں، اب تک 8 لاکھ افراد کورونا کی ویکسینیشن کے عمل سے گزر چکے ہیں لیکن 60 سال سے زائد عمر کے رجسٹر ہونے والوں میں سے صرف 32 فیصد نے کورونا ویکسین لگوائی ہے۔