مصباح الحق نے ناکامی کا سارا ملبہ وکٹ پر گرادیا

ہماری قوت اسپنرز کے لیے دبئی کی پچ میں کچھ بھی نہیں تھا، پاکستانی قائد


Sports Desk January 13, 2014
دبئی ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد پاکستانی کپتان مصباح الحق ، آف اسپنر سعید اجمل اور تجربے کار بیٹسمین یونس خان کی مایوس پویلین واپسی ،فوٹو: اے ایف پی

سری لنکا کے ہاتھوں دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد کپتان مصباح الحق پچ کا رونا رونے لگے۔

ان کا کہنا ہے کہ دبئی میں ہمیں ویسی وکٹ نہیں ملی جو چاہیے تھی، اس میں ہماری طاقت اسپنرز کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، نوجوان کھلاڑیوں کو بنیادی چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں کیا۔ مصباح دوسرا ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل تواتر سے کہہ رہے تھے کہ دبئی کی وکٹ اسپنرز کیلیے سازگار ہوگی مگر حیران کن طور پر اس میں اسپن بولرز کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، اسی پرکپتان نے شدید اعتراض کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہاں پر ویسی وکٹ نہیں ملی جوکہ ہمیں چاہیے تھی، سب سے بڑی تشویش کی بات یہ تھی اس میں اسپن ہی نہیں تھا، پانچویں روز بھی اسپنرز کو کچھ مدد نہیں ملی جوکہ ہماری طاقت ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پہلے دن وکٹ میں سیم موومنٹ بہت زیادہ تھا، سری لنکا نے بال اور بیٹ دونوں کے ساتھ ڈسپلن کا مظاہرہ کیا، یہی وجہ ہے کہ وہ جیت گیا، کوشل سلوا ایک اچھے کھلاڑی ہیں۔

 photo 2_zps3b02b513.jpg

انھوں نے سیمرز کو عمدگی سے کھیلا، باہر جاتی ہوئی بالز کوچھوڑا، سعید اجمل کے خلاف بھی کافی اچھے رہے، ویسے بھی سری لنکنز سعید کو کافی عرصے سے کھیل رہے ہیں اوردوسری بات یہ ہے کہ انھیں اس وکٹ سے کوئی مدد بھی نہیں ملی جس سے وہ جدوجہد کرتے رہے، ہمیں تھوڑے وقت کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کی بنیادی چیزوں کو اچھی طرح سمجھ لیں، ہمیں بری بالز کا انتظار کرنے کا گر آنا چاہیے، سرفراز اور بلاول بھٹی اچھا کھیلے، وکٹ فلیٹ تھی اس میں ہمیں دوسری اننگز میں 400 رنز بنانے چاہیے تھے۔ دوسری جانب فاتح کپتان انجیلو میتھیوز نے کہا کہ بولرز نے عمدگی سے اپنی ذمہ داری نبھائی جبکہ بیٹسمینوں نے بھی بہتر پرفارم کرکے اس کامیابی کو یقینی بنایا، ہم نے صورتحال سے قطع نظر فائٹ جاری رکھی جس کا ہمیں بھرپور صلہ ملا۔مین آف دی میچ مہیلا جے وردنے کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی ٹیم کی فتح میں اپنا حصہ ڈالنے میں کامیاب رہا۔