متنازع آرڈیننس کو فی الفور واپس لیا جائےمحمدحسین محنتی

نیا بلدیاتی آرڈیننس شہری اور دیہی عوام کو عملاً تقسیم کرنے کی سازش ہے.


Staff Reporter September 09, 2012
نیا بلدیاتی آرڈیننس شہری اور دیہی عوام کو عملاً تقسیم کرنے کی سازش ہے

جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے سندھ کی محض دو جماعتوں کے آپس میں اشتراک سے تیار کیے گئے۔

بلدیاتی آرڈیننس کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ متنازع آرڈیننس پیش کرنے کے بجائے مہنگائی، دہشت گردی، قتل و غارت گری اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلیے سنجیدہ اقدامات کرے، متنازع آرڈیننس فی الفور واپس لیا جائے۔

انھوں نے موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے بجائے حکومت اپنے مفادات کی خاطر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے، حکمرانوں کو عوام کو متحد اور اکھٹا کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ناکہ تقسیم کرنے کی۔

نیا آرڈیننس شہری اور دیہی عوام کو آپس میں عملاً تقسیم کرنے کی سازش ہے جس کے صوبے پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے، انھوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے متنازع آرڈیننس ان طاقتوں کی بلیک میلنگ کی وجہ سے منظور کیا جو ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، محمد حسین محنتی نے مطالبہ کیاکہ متنازع آرڈیننس کو فی الفور واپس لیا جائے، انھوں نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ روٹی کپڑا اور مکان کے دلفریب نعروں کے پیچھے چھپے بھیانک حقائق کا ادراک کریں۔