پاکستان کاچین کیساتھ تجارتی خسارہ 411ارب روپے ہوگیا

2011-12ء کے دوران چین سے ایک کھرب 43ارب روپے مالیت کی مشینری درآمد کی گئی۔


Numainda Express September 09, 2012
2011-12ء کے دوران چین سے ایک کھرب 43ارب روپے مالیت کی مشینری درآمد کی گئی۔ فوٹو: فائل

AUSTRALIA: پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی عدم توازن بڑھنے کی وجہ سے گذشتہ 3 سال کے دوران چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ248 ارب روپے سے بڑھ کر411 ارب روپے ہوگیا ۔

درآمدات میں تیزی کیساتھ اضافے کے باعث چین پاکستان کا متحدہ عرب امارات کے بعد دوسرا بڑا امپورٹ پارٹنر بن گیا۔ پاکستان چین سے مجموعی طور پر 610 ارب روپے سالانہ کی اشیاء درآمد کررہا ہے جبکہ پاکستان 199ارب روپے کی اشیاء چین کو برآمد کرتا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی سہ ماہی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 2007-8ء میں پاکستان کی چین سے سالانہ درآمدات کا حجم 292 ارب روپے تھا جو گذشتہ مالی سال 2011-12ء میں بڑھ کر 610 ارب روپے،21 فیصد ہوگیا۔

پاکستان نے 2011-12 کے دوران چین سے ایک کھرب 43ارب 77کروڑ40 لاکھ روپے مالیت کی مشینری،71 ارب 41کروڑ روپے کے ایپلائنسز، 19ارب 74کروڑ 40لاکھ روپے کا ہاتھ کا تیار کردہ اسٹیپل فائبر، 39 ارب 91 کروڑ 10 لاکھ روپے کا ہاتھ کے تیار کردہ فلمنٹس،36 ارب 45کروڑ 40لاکھ روپے کا آرگینک کیمیکلز،28 ارب 71 کروڑ20 لاکھ روپے کا آئرن اینڈ اسٹیل، 19 ارب 28کروڑ20 لاکھ روپے کا پلاسٹک، 15ارب 45کروڑ روپے کی ربڑ،15 ارب 25کروڑ40 لاکھ روپے کی لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات،15ارب 41کروڑ روپے کی گاڑیاں ، 11 ارب 76کروڑ 10لاکھ روپے کا متفرق کیمیکل، 24ارب 99کروڑ روپے کی کھاد،6ارب 57 کروڑ 60لاکھ روپے کی سبزیاں اور مختلف پھلوں اور سبزیوں کی جڑیں و پنیریاں،6 ارب 71کروڑ 70لاکھ روپے کی سرامکس کی مصنوعات،5ارب 90کروڑ 30لاکھ روپے کے جوتے،7ارب 22کروڑ60 لاکھ روپے کی گھڑیاں اور کلاک، 4ارب 83 کروڑ20 لاکھ روپے کی ٹیکسٹائل فیبرکس اور ٹیکسٹائل کی اشیاء،5ارب 52کروڑ40 لاکھ روپے کا شیشہ اور گلاس ویئر، 3ارب 57کروڑ 70لاکھ روپے کی چائے،کافی اور مصالحہ جات جبکہ 8 ارب 65 کروڑ40 لاکھ روپے کا پیپر اور پیپر بورڈدرآمد کیا۔