وزیر خزانہ کی اقتصادی بریفنگ

وزیر خزانہ و حکام کو فیڈ بیک ملے، ایک کثیر جہتی معاشی لائحہ عمل کے لیے اقدامات کا جائزہ تسلسل کے ساتھ لیا جائے۔


Editorial May 05, 2021
وزیر خزانہ و حکام کو فیڈ بیک ملے، ایک کثیر جہتی معاشی لائحہ عمل کے لیے اقدامات کا جائزہ تسلسل کے ساتھ لیا جائے۔ فوٹو: فائل

ملکی معیشت کو بحران، بے سمتی، مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے گرداب سے نکالنے کی پہلی با ضابطہ کوشش کا آغاز ارباب اختیار نے گزشتہ روز کیا، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ ناجائز قرار دیتے ہوئے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام پر نظر ثانی کا عندیہ دیدیا۔

وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں، بجلی کی قیمتیں بڑھانے سے کرپشن بڑھے گی، معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا اور آئی ایم ایف بجلی ٹیرف میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے، جی ڈی پی گروتھ پانچ فیصد تک نہ لے کر گئے تو آیندہ چار سے پانچ سال تک ملک کا اللہ حافظ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا۔ تفصیلات کے مطابق قائمہ کمیٹی برایت خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ زیادتی کی، بجلی ٹیرف میں اضافہ آئی ایم ایف مطالبہ نا جائز ہے، انھوں نے آئی ایم ایف سے کہا کہ گردشی قرضہ کم کریں گے لیکن ٹیرف بڑھانا سمجھ سے باہر ہے۔

وزیر خزانہ کے مدلل انداز گفتگو سے لگ رہا تھا کہ معاشی اور مالیاتی معاملات کافی بے سمتی کا شکار تھے جنھیں سنجیدگی کے ساتھ کنٹرول کرنے کے لیے بڑی باریک بینی سے درست سمت دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے ملک میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم معاشی پالیسی نہیں، معیشت کی بحالی اور استحکام کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، حکومت جن اداروں کو نہیں چلا سکتی ان کی نجکاری کر دی جائے گی۔

حقیقت میں نجکاری پالیسی کی کوئی کل سیدھی نہیں تھی، وفاقی حکومت ایک غیر فیصلہ جاتی مائنڈ سیٹ کے ساتھ نجکاری پالیسی کو گھسیٹتی چلی جا رہی تھی، جن صنعتوں اور اداروں کی نج کاری کی گئی، ان کے سکینڈلز سامنے آئے، قومی ایئر لائنز کی دو حصوں میں تقسیم کی بات میڈیا میں آ گئی، پاکستان اسٹیل کے فیصلہ کا تاثر بھی ملکی معیشت کے شان نظر نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصہ تک ملک کے قیمتی اثاثے کوڑیوں کے مول بکنے لگے تھے، جس بیدردی کے ساتھ ملک کے بیمار اداروں، صنعتی یونٹوں اور محکموں کو اونے پونے داموں میں فروخت کیا گیا، صائب رائے تو یہی ہو سکتی ہے کہ وزیر خزانہ نے اپنی رپورٹ میں نج کاری کے حوالے سے جو احسن رائے دی ہے، ارباب اختیار اس تجویز کو سرد خانہ میں ڈالنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیں، ملکی معیشت کو اس وقت وسائل کی ضرورت ہے۔

صنعتی جمود، تساہل اور بے عملی کو قومی جدوجہد کا حصہ نہ بنایا جائے، معیشت اور پالیسیوں کو نئے اسلوب کے ساتھ جدیدیت، تنوع، ماڈرن طور کے کمرشل تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، صنعتی پھیلاؤ کے نئے تصورات کو ملک بھر میں فروغ دیا جائے، افرادی طاقت کو ہنرمندی سے استعمال میں لایا جائے، زراعت کو اہمیت دی جائے، ملکی زراعت کو نئی شناخت عطا ہو، کسان، ہاری اور مزارعین بھی زندگی کو تبدیل ہوتے ہوئے دیکھیں۔

ان کی غربت، جاگیرداری اور قبائلیت کو اکیسویں صدی کے تقاضوں میں نئے معانی ملیں، محنت کش اور تعلیم یافتہ خواتین کی اقتصادی طاقت و وقار اور سماجی تعصبات، امتیازات، جاہلانہ رسوم کے بندھن ٹوٹیں۔ ایسا سب کچھ ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے معیشت اور سیاسی فکر میں ہم آہنگی لائیں، معاشی مقاصد اور جمہوری آدرش میں مطابقت پختہ ہو، ملکی ترقی کے لیے مستحکم معیشت کے محاذ پر قوم اور سیاست میں یکجہتی ناقابل متزلزل ہو، سیاست عوام دوست اور معیشت کسی بھونچال سے آشنا نہ ہوں، غریب کو جینے کا حق ملے، تعلیم، صحت، روزگار کی فراوانی ہو، ارباب اختیار ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے عزم و جنوں کو ساتھ لر کر چلیں اور معاشی مسیحاؤں کو فری ہینڈ ملے، اقتصادی آزادی نصیب ہو، ملک خود کفالتی کی منزلوں کو سر کرے۔

میرٹ کے مطابق نئی نسل کو ملکی تعمیر میں اپنا شیئر ملے تو کوئی طاقت پاکستان کو ترقی اور بے مثال بریک تھرو سے نہیں روک سکتی، جمہوری حکومت تبدیلیوں کے محض نعروں سے بڑھ کر جمہوری اقدار اور معیشت کی کمان سنبھال لے، ایگرو بیسڈ انڈسٹریز کو نئے عزم اور حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے، سارے فرسودہ اور ازکار رفتہ پیداواری رشتے تبدیل ہوں، نئے آلات، اوزار ہوں گے تو نئی تہذیب ابھرے گی، یہی نئی سوچ ہے، جدید ترین سائنس و ٹیکنالوجی بیسڈ ہوں، ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی کے لیے مفید سوچ کو بڑھاوا دیں، ایجادات نئی لائیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت، صنعت، پرائس کنٹرول اور ہاؤسنگ سیکٹر میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بریفنگ میں بتایا کہ صرف اعشاریہ 25 فیصد ہاؤسنگ مارگیج ہے لیکن ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی سے20 دوسری صنعتوں کا پہیہ چلے گا، صحت اور تعلیم کے لیے بہت کم خرچ کیا جاتا ہے، تمام صوبوں کے محاصل کا85 فیصد ملک کے9 بڑے شہروں پر خرچ ہوتا ہے۔

غریب طبقے کو اشیائے ضروریہ پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا پلان ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے200 ارب روپے مختص کیے جب کہ زراعت قومی معیشت میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت اس شعبہ میں بہتری لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ فارم لیبر، پراسیسنگ، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک میں حائل رکاوٹوں کو دور کر کے کھیت سے لے کر صارف تک کی سپلائی چین کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔

کوویڈ 19کی عالمگیر وبا کی وجہ سے سپلائی سائیڈ میں رکاوٹیں آنے سے صورتحال مشکل ہو گئی ہے، ترین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتیں رمضان بازاروں میں سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی کے لیے اقدامات کریں، عید کے موقع پر اشیائے ضروریہ کے ذخائر، مارکیٹ میں فراہمی اور صارفین کے مفادات کو یقینی بنایا جائے عید کے موقع پر کسی صورت ذخیرہ اندوزی اور بے جا منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی، وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ استحکام پاکستان کی معیشت کے لیے سستا نہیں رہا جسے اب اعلیٰ نمو کی جانب رفتار پکڑنی چاہیے، شوکت ترین نے کہا کہ توانائی کی بلند قیمتیں بدعنوانی کا سبب اور معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جن شرائط پر اتفاق کیا گیا وہ بہت سخت ہیں۔

ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ حکومت گردشی قرض کم کرنے کے لیے متبادل اقدامات اٹھائے گی۔ اسی طرح ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیکسز میں اضافے کے بجائے ٹیکس بیس کو وسعت دی جائے گی اور اعتراف بھی کیا کہ سرکاری ملکیت کے وہ ادارے جنھیں حکومت پبلک سیکٹر میں چلا نہیں پا رہی ان کی نجکاری کر دی جائے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق کورونا وائرس کی تیسری لہر سے متاثر ہونے کے بعد آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے ہمدردانہ رویہ رکھنے کے لیے قائل کیا جا رہا ہے۔ شوکت ترین نے متنبہ کیا کہ جب تک ملک اعلیٰ معاشی نمو کی طرف نہیں جاتا، کچھ بھی بہتر نہیں ہوگا اور اگر ہم استحکام کو جاری رکھتے ہیں جو دو سالوں سے جاری ہے تو نہ ریونیو کلیکشن بڑھے گی، نہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اور نہ ہی معیشت کی پیداواری صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔

وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک سال 2019 سے استحکام کے دور میں ہے لیکن اگر حکومت نے یہی پالیسی جاری رکھی تو یہ مزید مستحکم نہیں رہ سکے گا اور آیندہ 2 سالوں میں کوئی معاشی نمو نہیں ہوگی۔ یہ سخت انتباہ ارباب اختیار کے لیے چشم کشا ہیں، انھوں نے بتایا کہ آیندہ مالی سال کے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ تمام صوبوں کو نمو کے یکساں مواقعے مل سکیں، معاشی نمو نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اور ان میں سے ایک پاور سیکٹر میں گنجائش سے زیادہ کی ادائیگیاں ہیں، حتیٰ کہ آیندہ برس 4 سے 5 فیصد نمو بھی کافی نہیں رہے گی۔

انھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اعلیٰ معاشی نمو کی طرف بڑھنے اور رفتار کو بدلنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا چکی ہے، انھوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بلند پالیسی ریٹ پر تنقید کی اور کہا کہ ماضی میں پالیسی ریٹ 13.25 فیصد رکھنا غلطی تھی۔ شوکت ترین گزشتہ ماہ وزیر خزانہ کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ قائمہ کمیٹی میں پیش ہوئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم کو یہ بات سمجھنی چاہیے تھی کہ وبائی صحت کے تناظر میں دنیا مالی اور مانیٹری پرس کھو رہی ہے لیکن پاکستان کو اب بھی ان سخت شرائط کا سامنا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے عالمی وبا کے پیش نظر ہمدردانہ رویہ رکھنے کی درخواست کے بعد آئی ایم ایف اسٹاف پاکستان کی پوزیشن کو سمجھے گا۔ انھوں نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ چونکہ چین نے ملک بھر سے کارکنوں کو ملازمت فراہم کی تھی اس لیے اس سے اپنی صنعتوں میں ایک کروڑ پاکستانیوں کو ملازمت دینے کی درخواست کی جائے گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر خزانہ و حکام کو فیڈ بیک ملے، ایک کثیر جہتی معاشی لائحہ عمل کے لیے اقدامات کا جائزہ تسلسل کے ساتھ لیا جائے، مہنگائی اور غربت کو ٹارگٹ کریں، حکومت روزمرہ اشیائے ضروری کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئی تو کامیابی کا یہ سلسلہ مزید نتیجہ خیز بھی ہوگا اور نئے اقتصادی عوامل سے معاشی میکنزم کو بڑی سہولت مل سکے گی۔ ضرورت معیشت کے تن مردہ میں جان ڈالنے کی ہے۔

مقبول خبریں