پسپائی
سال رواں کا آغاز ملک کے دو سابق صدور کی عدالتوں میں طلبی سے ہوا۔ دو جنوری کو خصوصی عدالت میں طلب...
سال رواں کا آغاز ملک کے دو سابق صدور کی عدالتوں میں طلبی سے ہوا۔ دو جنوری کو خصوصی عدالت میں طلب کیے گئے سابق صدر پرویز مشرف سخت سیکیورٹی میں گھر سے نکلے تو تھے عدالت آنے کے لیے مگر اچانک وہ ہارٹ اسپتال پہنچ گئے اور اب انھیں 16 جنوری کو عدالت طلب کرلیا گیا ہے جہاں اگر وہ حاضر ہوگئے تو ان پر فرد جرم عاید کی جائے گی۔ سابق سویلین صدر آصف علی زرداری کو بھی 9 جنوری کو احتساب عدالت نے طلب کیا تھا اور وہ کراچی سے اسلام آباد پہنچ کر عدالت میں حاضر ہوگئے۔ آصف زرداری کی حاضری نے ثابت کردیا کہ سیاسی لوگ کراچی سے اسلام آباد پیشی پر آجاتے ہیں جب کہ سابق فوجی صدر جو خود کو کمانڈو قرار دیتے تھے چک شہزاد سے بھی عدالت نہیں پہنچ سکے جس کی وجہ ان کی اچانک نمودار ہونے والی بیماریاں بتائی گئی ہیں جب کہ ماضی میں گردن پر کالر لگا کر بھی آصف علی زرداری عدالتوں میں حاضریوں پر آیا کرتے تھے اور اب بھی 9 جنوری کو ہشاش بشاش عدالت میں دیکھے گئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بیماری کسی پر بھی اچانک حملہ آور ہوسکتی ہے مگر سابق صدر پر جو بیماریاں اچانک حملہ آور ہوئی ہیں انھوں نے ان سے متعلق مختلف خبریں اڑا دی ہیں اور ان کے مخالفین ان کی بیماریوں کو ان کی پسپائی بھی قرار دے رہے ہیں۔
سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے 9 سال جس کروفر سے گزارے اور ان کی صدارت میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت نے جمہوری طور پر اپنے اقتدار کے 5 سال بھی مکمل کیے تھے۔ (ق) لیگ کی حکومت میں تین وزیر اعظم ضرور تھے مگر اصل اقتدار جنرل پرویز ہی کے ہاتھ میں تھا اور اس با اختیار صدر کے پاس 58-2B کا اہم ہتھیار بھی تھا اور (ق) لیگ سے مایوسی کے باوجود انھوں نے دو وزیر اعظم تو تبدیل کرائے اور انھوں نے اپنے پسندیدہ وزیر اعظم شوکت عزیز کے اقتدار کو طول دے کر (ق) لیگ کو اپنی 5 سالہ مدت مکمل کرنے کا پورا موقعہ دیا اور آخر میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے مل کر ملک کو این آر او دیا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ (ق) لیگ سے مایوس ہوکر اپنی صدارتی مدت محترمہ کی وزارت عظمیٰ میں پوری کرنے کے خواہش مند تھے۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ صدر پرویز مشرف چاہتے تھے کہ محترمہ تیسری بار وزیر اعظم نہ بنیں اور پی پی سے انھیں چوہدری شجاعت جیسا بے ضرر وزیر اعظم مل جائے مگر 27 دسمبر آگیا جس نے پی پی کو تیسری بار اقتدار دلادیا مگر پرویز مشرف پی پی دور میں بمشکل 6 ماہ ہی صدر رہ سکے۔ سابق صدر پرویز مشرف کا دعویٰ ہے کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں مگر ایکسپریس کے مشہور کالم نگار جاوید چوہدری کے 9 جنوری کے کالم میں انکشاف ہوا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے اپنی صدارت میں کروڑوں روپے اپنے دو بے وفا حامیوں کو دیے تھے جو اگر حقیقت ہے تو پرویز مشرف کا کرپشن نہ ہونے کا دعویٰ مشکوک ہوجاتا ہے اور اپنے سیاسی مفاد کے لیے کروڑوں روپے تقسیم کرنا بھی انھیں کرپٹ سیاستدانوں کی صف میں لے آتا ہے۔
دو جنوری سے سابق صدر کو میڈیا میں جتنی پبلسٹی ملی اور عوامی سطح پر بھی وہ زیر بحث رہے اور 16 جنوری کو عدالت میں پیشی یا امریکی اخبار کے مطابق بیماری کے باعث علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی خبروں کے حقیقت ہونے تک وہ شہ سرخیوں اور چینلز کی ہیڈ لائنز میں رہیں گے۔
پرویز مشرف سیاسی طور پر ملک کے صدر منتخب نہیں ہوئے تھے اور انھوں نے پہلے خود کو ریفرنڈم کے ذریعے اور بعد میں ملکی اسمبلیوں کے ذریعے فوجی وردی میں صدر منتخب کروایا تھا اور صدر کی حیثیت سے وہ مطلق العنان حکمراں تھے اور (ق) لیگ کے اہم رہنماؤں کی بھی نہیں سنتے تھے البتہ اپنی کابینہ اور سیاسی ساتھیوں سے مشورے ضرور کرتے تھے مگر کرتے اپنی من مانی تھے جو اب ان کے گلے پڑ گئی ہے۔
سابق صدر کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ان کے دور میں جمہوری آزادی اور موجودہ سیاسی حکومتوں کی جمہوریت سے زیادہ جمہوریت تھی اور موجودہ سیاسی حکومتوں کے دور جیسی ہوش ربا مہنگائی بھی نہیں تھی۔ ڈالر ساٹھ روپے تک کنٹرول میں رکھا گیا۔ بے دریغ کرنسی نہیں چھاپی گئی اور سب سے بڑھ کر انھوں نے میڈیا کو آزادی بھی دی تھی اور ملک میں بااختیار ضلعی حکومتوں کے دو بار انتخابات بھی کروائے تھے جس کے نتیجے میں نچلی سطح پر ہونے والی ترقی کے ملک میں ریکارڈ قائم ہوئے تھے۔ سابق صدر نے اپنے دور میں دی گئی میڈیا کی آزادی پر کبھی پچھتاوے کا بھی اظہار نہیں کیا۔ سابق صدر کی میڈیا کی آزادی سابق صدر زرداری کی دونوں حکومتوں میں ان کے گلے پڑی رہی اور آج وہی آزاد میڈیا دو جنوری سے سابق صدر کی جو تشہیر کر رہا ہے اتنی تشہیر انھیں اپنے اقتدار کے 9 سالوں میں کبھی نہیں ملی۔ پرویز مشرف ایک آمر تھے مگر آج ان کے دور کو سابق زرداری حکومت اور موجودہ نواز شریف حکومت کے دور سے عوامی سطح پر بہتر قرار دیا جارہا ہے اور اسی بات پر سابق صدر مشرف فخر کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
ساڑھے پانچ سالوں سے پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں نے عوام کو کیا دیا اس پر دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین نے کبھی سوچنے کی زحمت نہیں کی۔ پی پی سابق آمر حکومت کو اور (ن) لیگ کی حکومت سابق پی پی حکومت کو تمام برائیوں کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں اور 1999 میں سابق آمر نے بھی ملک کے برے حالات کا ذمے دار سابق سیاسی حکومتوں کو قرار دیا تھا جب کہ عوام نے 2008 میں (ق) لیگ کو اور 2013 میں پی پی حکومت کو مسترد کرکے اپنا فیصلہ دیا تھا۔
پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوتے ہیں یا ملک سے باہر چلے جاتے ہیں یہ تو آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا مگر قوم اس حقیقت سے ضرور آگاہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور حکومت کے مقابلے میں مہنگائی بڑھاکر پی پی کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی پسپا ہوچکی ہے اور قوم کو دونوں پارٹیوں سے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا۔