ایکسپریس میڈیا گروپ پر تیسرا حملہ

آزادی صحافت اور اظہار کے حق کے بلا خوف و خطر استعمال کی ایکسپریس میڈیا گروپ کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے


Editorial January 18, 2014
حکومت نے جو بھی کرنا ہے اسے واضح نصب العین کے تحت کرے. فوٹو؛ایکسپریس نیوز

CAPE TOWN: آزادی صحافت اور اظہار کے حق کے بلا خوف و خطر استعمال کی ایکسپریس میڈیا گروپ کو جو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، اس الم ناک اور لرزہ خیز منظر نامے کا اندازہ دہشت گردی کی گزشتہ شب کی کارروائی کے آئینے میں بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کراچی میں نارتھ ناظم آباد میٹرک بورڈ آفس کے قریب معمول کی نشریات کے لیے کھڑی ایکسپریس نیوز کی ڈی ایس این جی وین پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایکسپریس نیوز کا ڈرائیور، محافظ اور ٹیکنیشن شہید ہو گئے، قریب کھڑے پولیس اور رینجرز اہلکار حیرت انگیز طور پر ٹارگٹ کلنگ کی واردات سے لاعلم رہے یا ان کی بے حسی اور بے عملی کسی پراسرار پلان کا حصہ تھی جب کہ کالعدم تحریک طالبان کی ایک اہم شخصیت احسان اللہ احسان نے افغانستان سے ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن جاوید چوہدری کو ٹیلی فون کر کے ایکسپریس نیوز کی گاڑی پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

اس سے قبل بھی کراچی میں ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفتر کو2 بار نشانہ بنایا گیا تاہم دہشت گردوں کا تیسرا حملہ جان لیوا ثابت ہوا جس میں تین بے گناہ کارکن شہید ہو گئے۔ صدر مملکت ممنون حسین، وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، مختلف سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے ایکسپریس میڈیا گروپ کی گاڑی پر حملے کی سخت مذمت کی ہے اور اس واقعے میں ایکسپریس میڈیا گروپ کے3 کارکنوں کی شہادت پر انھیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکسپریس میڈیا گروپ نے ہمیشہ سچ اور حق کی آواز بلند کی، دو مرتبہ حملوں کے باوجود ایکسپریس میڈیا گروپ اور ان کے کارکنان کے حوصلے کمزور نہیں ہوئے، ایکسپریس میڈیا گروپ اور ان کے کارکنان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف' سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ' خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک' بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، سابق صدر آصف علی زرداری، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین ، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور دیگر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ نے ایکسپریس میڈیا گروپ کی گاڑی پر حملے اور تین کارکنان کی شہادت کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ایکسپریس میڈیا گروپ کی گاڑی پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آئی جی سندھ سے فوری طور پر واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے، انھوں نے سوگوار خاندانوں اور ایکسپریس میڈیا گروپ کی انتظامیہ کے ساتھ اپنے رنج و دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ کی گاڑی پر حملے اور تین کارکنان کی شہادت کے واقعے کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سمیت ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا اعلان کیا ہے، کراچی' لاہور' پشاور' کوئٹہ اور ملک کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صحافی تنظیموں نے مظاہرے کیے' ان مظاہروں میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ پی ایف یو جے نے ایکسپریس نیوز کی گاڑی پر کراچی میں حملہ اور اس ضمن میں تین کارکنوں کی شہادت پر دس یوم کا سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ ہر صحافتی ادارے پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور صحافتی خدمات سیاہ پٹیاں باندھ کر ادا کی جائیں گی۔ ملک کی تاجر تنظیموں نے بھی اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو ہدایت کی کہ ملک بھر کے صحافیوں بالخصوص ''ایکسپریس نیوز'' کے کارکنوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید گزشتہ روز لاہور میں ایکسپریس نیوز آئے اور کارکنوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ دیر آید درست آید۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں اظہار یکجہتی کے لیے ایکسپریس نیوز کے دفتر نہیں آئے اور ان کا بیان بھی روایتی نوعیت کا ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے ملک بھر میں امن وامان کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوئی ہے۔ ملک بھر میں بم دھاکے' خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن چکی ہے۔ کراچی کی صورت حال زیادہ خراب ہے۔ کہنے کو یہاں رینجرز اور پولیس کی نگرانی میں آپریشن جاری ہے لیکن حالت یہ ہے کہ ایکسپریس نیوز کی گاڑی پر حملہ ہو گیا اور تین بے گناہ افراد شہید ہو گئے اور قاتل اطمینان سے فرار ہو گئے حالانکہ جس وقت یہ واردات ہوئی پولیس اور رینجرز قریب ہی کھڑے تھے۔ اگر پولیس یا رینجرز تعاقب کرتے تو ملزم پکڑے جا سکتے تھے۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفتر پر فائرنگ کے جو پہلے واقعات ہوئے، ان ملزمان کی بھی گرفتاریاں عمل میں نہیں آ سکیں۔

پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکے حالانکہ اس وقت بھی سندھ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملزم جلد گرفتار کر لیے جائیں گے۔ اگر ایکسپریس نیوز کے دفاتر پر ہونے والے حملوں کے ملزمان کو گرفتار کر لیا جاتا تو شاید حالیہ واقعہ رونما نہ ہوتا۔ یہ سانحہ سندھ حکومت اور وفاقی ایجنسیوں کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

اصل معاملہ وہی روایتی عدم توجہی اور نااہلی اور بے حسی ہے۔ مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے، سب ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ کہیں کنفیوژن ہے تو کہیں نااہلی۔ ان عناصر نے مل کر ریاست کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت ابھی تک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنا سکی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ہوں یا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں' ابھی تک طالبان سے مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فارمولا تیار نہیں کر سکے۔ یہ تو کہہ دیا جاتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کریں گے' آخری آپشن آپریشن ہو گا لیکن اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا' کسی کو پتہ نہیں ہے کہ حکومت کسی سے مذاکرات کر بھی رہی ہے یا نہیں۔ اس صورت حال نے ملک بھر میں کنفیوژن پیدا کررکھی ہے۔ وفاقی حکومت کی یہ کنفیوژ پالیسی ریاستی اداروں کی کارکردگی کو زوال پذیر کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ ادھر تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی ابہام کا شکارہے۔

وزیر اعظم نواز شریف شدید داخلی سیاسی و فکری تقسیم کے باوجود طالبان سے بامقصد اور پرامن بات چیت کی کمٹمنٹ پر بدستور قائم ہیں لیکن ادھر پوری قوم مضطرب اور اس کشمکش میں گرفتار ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے آخر کتنا اور انتظار کرنا پڑے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت نے جو بھی کرنا ہے اسے واضح نصب العین کے تحت کرے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی بھی مخالف نہیں ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں تو پھر پوری مخلصی اور نیک نیتی کے ساتھ اس عمل کو شروع کیا جائے اور اس معاملے میں قوم کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ ملک میں جاری کشت و خون کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایکسپریس نیوز کے کارکنوں کے قاتلوں کو ہر صورت میں گرفتار کیا جانا چاہیے اور انھیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر کی سیکیورٹی کا فول پروف انتظام کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نواز شریف نے میڈیا ہاؤسز کی سیکیورٹی کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں پر مشتمل جو دو رکنی کمیٹی بنائی ہے اسے وقت ضایع کیے بغیر فوری فیصلہ کرتے ہوئے میڈیا ہاؤسز خصوصاً ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر کی فول پروف سیکیورٹی کے احکامات جاری کرنے چاہئیں۔