سندھ حکومت رواں مالی سال کے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام

رواں مالی سال صحت، تعلیم، زراعت اور داخلہ کی 100 سے زائد اسکیمز کے لئے فنڈز ہی جاری نہیں ہوئے، اعداد وشمار


ویب ڈیسک June 09, 2021
مختلف اضلاع میں بس ٹرمینلز کی اسکیم کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ کو فنڈ ہی نہ مل سکا، دستاویز۔ فوٹو:فائل

صوبہ سندھ کے اہم محکموں کی ترقیاتی اسکیمز رواں مالی سال میں بھی مکمل نہ ہوسکیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت رواں مالی سال کے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اہم محکموں کی ترقیاتی اسکیمز رواں مالی سال میں بھی مکمل نہ ہوسکیں۔

اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ انسانی حقوق دادو، گھوٹکی، لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد میں لیگل ایڈ سینٹرقائم ہی نہ ہوسکے، لیگل ایڈ سینٹر کے لئے بجٹ جاری ہونے کے باوجود خرچ نہ ہوسکے، محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 9 اسکیمز کے لئے جاری 108 ملین میں سے صرف 13 ملین روپے خرچ ہوئے، سرکلر ریلوے کی کنسلٹنسی، باؤنڈری فینسنگ پر مالی سال کے9 ماہ میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں بس ٹرمینلز کی اسکیم کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ کو فنڈ ہی نہ مل سکا، جب کہ رواں مالی سال کے 9 ماہ میں صحت، تعلیم، زراعت اور داخلہ کی بھی 100 سے زائد اسکیمز کے لئے فنڈز جاری نہیں ہوئے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جانے والا علاقہ لیاری تو سندھ حکومت کی نظروں سے اوجھل ہی رہا اور اسی وجہ سے بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج منصوبہ التواء کا شکار ہوگیا۔

ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال میں بھی بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج لیاری کی اسکیم پر کوئی فنڈ خرچ نہ ہوسکا، بلاول بھٹو زرداری کے نام سے منسوب انجینئرنگ کالج لیاری کی اسکیم ہر بجٹ میں شامل کی جاتی ہے، لیاری جنرل اسپتال کی مرمت و توسیع کے لئے مختص 30ملین میں سے 60لاکھ جاری ہوئے لیکن ایک روپیہ بھی خرچ کچھ نہ ہوسکا، لیاری ٹراما سینٹر اسکیم کے لئے مختص 550 ملین میں سے 9 ماہ کے دوران صرف 153ملین جاری ہوئے، لیاری کی اندرونی گلیوں، سڑکوں کی استرکاری، سیوریج لائنوں، پارکوں کی اسکیمز بھی ادھوری ہیں۔