زلمی کے ساتھ حالات کا ظلم

 اتوار 27 جون 2021
بولرز اگر8اوورز میں ہی104رنزکی پٹائی برداشت کرلیں تو مسائل بڑھ جاتے ہیں،زلمی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ فوٹو: پی ایس ایل

بولرز اگر8اوورز میں ہی104رنزکی پٹائی برداشت کرلیں تو مسائل بڑھ جاتے ہیں،زلمی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ فوٹو: پی ایس ایل

’’فکر نہ کریں ہم محمد رضوان کوکاٹ بی ہائنڈ کر لیں گے‘‘

وہاب ریاض نے فائنل سے قبل ’’کرکٹ پاکستان‘‘ کو انٹرویو میں مجھ سے جب یہ کہا تو میں مسکرانے لگا، فیلڈ میں انتہائی جارح مزاج نظر آنے والے وہاب حقیقی زندگی میں ہنسی مذاق کرنے والے انسان ہیں، البتہ میچ میں وہ بالکل مختلف روپ میں دکھائی دیتے ہیں، لوگوں کو شین واٹسن کے خلاف ورلڈکپ میچ میں خطرناک بولنگ کرنے والا وہاب ریاض اب بھی یاد ہوگا۔

پشاور زلمی کی جانب سے پی ایس ایل6میں بھی انھوں نے بڑی محنت کی اور ٹیم کو فائنل تک پہنچا دیا، رضوان کیلیے تو ان کی پلاننگ درست ثابت ہو گئی اور وہ وکٹوں کے عقب میں ہی کیچ ہو گئے، یہ اور بات ہے کہ تب تک ملتان سلطانز کے کپتان 30 رنز بنا چکے تھے اور اسکور بورڈ پر83 کا مجموعہ درج تھا، وہاب رضوان جیسی پلاننگ صہیب مقصود کیلیے نہ کر پائے، یا شاید اننگز کے آغاز میں ڈراپ کیچ سے معاملہ بگڑ کیا،حریف ٹیم نے206 رنز بنا لیے۔

18 وکٹیں لے کر ٹورنامنٹ کے دوسرے کامیاب ترین بولر وہاب کیلیے بطور بولر یہ میچ ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، ان سمیت عماد بٹ نے52،52رنز دے دیے، اگر کوئی بیٹسمین اتنا اسکور بنائے تو ٹیم کو یقیناً بہت خوشی ہوتی ہوگی مگر بولرز اگر8اوورز میں ہی104رنزکی پٹائی برداشت کرلیں تو مسائل بڑھ جاتے ہیں،زلمی کے ساتھ بھی یہی ہوا،کسی بھی پچ پر فائنل جیسے دباؤ والے میچ میں 207رنزکا ہدف عبور کرنا آسان نہیں ہوتا۔

وہاب کی ٹیم کا حضرت اللہ زازئی پر بہت زیادہ انحصار تھا مگر وہ6 رنز پر چل دیے، شعیب ملک نے اپنے طور پر کوشش کی مگر 48رنز کی اننگز ٹیم کو فتح دلانے کیلیے ناکافی ثابت ہوئی،6میں سے4 پی ایس ایل کھیلنے والی ٹیم کے ساتھ حالات کا ظلم جاری رہا اور وہ پھر فائنل ہار گئی، اب تک ٹائٹل کے اتنے قریب پہنچ کر بھی زلمی صرف ایک بار ہی فاتح بنی ہے، ابوظبی میں زازئی نے اپنے ابتدائی4میں سے 3میچز میں شاندار بیٹنگ کی بدولت مین آف دی میچ ایوارڈ پایا،البتہ فائنل میں مایوس کیا۔

کراچی کے اپنے دونوں میچز میں نصف سنچریاں بنانے والے روی بوپارا کی یو اے ای میں ٹیم کو بہت کمی محسوس ہوئی،کامران اکمل ماضی کی پی ایس ایل میں عمدہ کھیل پیش کرتے رہے ہیں مگر اس بار13 میچز میں صرف 2 ففٹیز ہی بنائیں،انھوں نے مجموعی طور پر 21 کی اوسط سے 283 رنز اسکور کیے،اگلی لیگ تک وہ 40 برس کے ہو چکے ہوں ہیں۔

ٹیم کو یقیناً کسی نوجوان وکٹ کیپر کی تلاش کرنا پڑے گی، البتہ عمر کی39 بہاریں دیکھنے والے شعیب ملک ’’اولڈ از گولڈ‘‘ کی بہترین مثال بنے ہوئے ہیں، انھوں نے اپنی بیٹنگ اور فیلڈنگ سے نوجوانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، شعیب کی فٹنس بھی مثالی ہے جبکہ وہ ٹیم مین بھی ہیں،فائنل کے سوا وہاب ریاض کی کارکردگی بھی عمدہ رہی، انھوں نے قائدانہ صلاحیتوں کا بھی بہترین اظہار کیا۔

حیدر علی کو ماضی میں زلمی ہی نے دریافت کیا تھا مگر اب وہ زوال کی گہرائیوں میں گرتے جا رہے ہیں،انھوں نے9میچز میں محض ایک نصف سنچری بنائی، اگر اس اننگز کو نکال دیں تو باقی8مقابلوں میں 16 کی ایوریج سے 116 رنز اسکور کیے، اسی طرح موقع ملنے پر امام الحق بھی تمام 6میچز میں ناکام رہے، وہ17کی اوسط سے107رنز بنا سکے جس میں کوئی ففٹی بھی شامل نہیں تھی، ان کے چچا انضمام الحق ٹیم کے بیٹنگ کوچ تھے مگر ان کی موجودگی کا بھی امام کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔

حیدر کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ’’کالر کھڑے‘‘ ہو گئے ہیں، کرکٹ میں اگر آپ زیادہ اونچا اڑنے لگیں تو اتنی ہی تیزی سے نیچے گرتے ہیں، کھیل پر سو فیصد انہماک ضروری ہے، آؤٹ آف فارم کھلاڑی تو زیادہ احتیاط کرتا ہے مگر حیدر نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی دے ماری اور بائیو ببل توڑنے کی پاداش میں نہ صرف فائنل سے باہر ہوئے بلکہ دورئہ انگلینڈ کے لیے قومی اسکواڈ سے ڈراپ ہو گئے، اب ان کے لیے واپسی آسان نہ ہو گی۔

عمید آصف بھی شریک جرم تھے، وہ اکا دکا وکٹ لینے پر بھی کبھی سپرمین یا آئرن مین بن جاتے ہیں، 9 میچز میں 38 کی اوسط سے 8 وکٹیں تو شاید فلمی سپرمین اور آئرن مین بھی لے لیتے،انگلش میڈیم پیسر ثاقب محمود نے کراچی کے 5 میچز میں ہی 12 وکٹیں اڑا دی تھیں مگر وہ ابوظبی نہ آ سکے، دوسرے کامیاب بولر محمد عرفان 10میچز کھیل کر بھی 10ہی وکٹیں لینے میں کامیاب رہے، لمبا قد پہلے ان کیلیے ایڈوانٹیج تھا لیکن 39 سال کی عمر میں دوران فیلڈنگ جھکنا اب اکثر مسئلہ نظر آیا،اسی لیے ایک میچ میں امپائرز نے اوورز کا کوٹہ مکمل ہونے پرعرفان کے ان فٹ ہونے کا جواز نہیں مانا تھا۔

شاید اگلے سیزن میں ہمیں وہ بھی کھیلتے دکھائی نہ دیں، ٹیم کو معیاری اسپنرز کی اشد ضرورت ہے، ڈرافٹنگ سے قبل اس حوالے سے ٹیم آفیشلز کو مناسب حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی، بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں سوائے زازئی اور ثاقب کے کسی غیرملکی کرکٹر کی کارکردگی میں بھی تسلسل نہیں ریا، کسی حد رک ردرفورڈ نے بہتر پرفارم کیا، زلمی کو ڈیرن سیمی جیسے سابق عظیم کرکٹر کی اب بطور کوچ خدمات حاصل ہیں۔

محمد اکرم بھی بہت محنت سے فرائض نبھاتے ہیں، قیادت وہاب ریاض جیسے پْرجوش کرکٹر کے سپرد ہے، اس سال تو ٹیم فائنل نہ جیت سکی، البتہ اگلے سال امید ہے کہ شائقین کی توقعات پر پورا اترے گی، پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس ٹیم کے لاکھوں مداح ہیں جو ٹائٹل فتح کی آس لگائے بیٹھے تھے مگر ملتان سلطانز نے فائنل میں شکست دے کر تمام خواب بکھیر دیے،البتہ ساتویں ایڈیشن میں زخمی شیروں کی جانب سے پلٹ کر حملہ خارج ازامکان نہیں لگتا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔