بلدیاتی الیکشن میں بائیو میٹرک سسٹم پر تحفظات

خیبرپختونخوا حکومت بلدیاتی انتخابات بائیومیٹرک سسٹم پر کرانے کی خواہاں ہے لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات کا اظہار کر دیا


Editorial January 22, 2014
خیبرپختونخوا حکومت بلدیاتی انتخابات بائیومیٹرک سسٹم پر کرانے کی خواہاں ہے لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات کا اظہار کر دیا. فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بائیو میٹرک سسٹم پر کرانے کے لیے تحفظات کا اظہار کر دیا اور ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کے تحفظات کو فوراً دور کیا جائے۔ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات بائیومیٹرک سسٹم پر کرانے کی خواہاں ہے لیکن الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں بائیومیٹرک سسٹم پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔ یوں لگتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک معمہ بن چکا ہے، پہلے سندھ و پنجاب میں آرڈیننسوں اور انتخابی حلقوں کا مسئلہ درپیش ہوا پھر تاریخیں بڑھنے لگیں، لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت پائوں کی زنجیر بن گئی اس لیے اس ''جھنجھٹ ''سے بچنے کا کوئی اور راستہ نہ ملا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 11 دسمبر 2013 ء کو خیبر پختونخوا میں بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا، 29 دسمبر کو اس سسٹم کے تحت انگوٹھے کے نشان اور شناختی کارڈ کی تصدیق کے حوالہ سے آزمائشی ووٹنگ بھی کی گئی اور اب خیبر پختونخوا حکومت اس سسٹم کے تحت مرحلہ وار انتخابات کا عندیہ دے رہی ہے، ادھر نادرا اور الیکشن کمیشن کا موقف تقریباً یکساں ہے کہ بائیو میٹرک سسٹم مہنگا ہے، اس کی مشینری کی اتنی جلدی فراہمی بھی مشکل ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں 12 لاکھ ایسے ووٹرز ہیں جن کے انگوٹھوں کے نشانات کے ریکارڈ نادرا کے دفاتر میں موجود نہیں ہیں اور 50 ہزار سے زائد تربیت یافتہ افراد کا اسٹاف درکار ہو گا جو بائیو میٹرک سسٹم چلائے گا اور اس کے علاوہ اس پر ڈیڑھ ارب خرچ ہو گا تو پھر سارا انتخابی عمل ناکام ہو جائے گا۔ اصولاً اس ساری تکنیکی دشواری کا کوئی حل نکالا جائے، سسٹم شفاف الیکشن کی ضمانت دیگا تو اس سے پہلو تہی ناقابل فہم ہے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے نادرا اور خیبرپختونخوا حکومت کو تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد اگلے اجلاس میں چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور الیکشن کمیشن کے حکام فیصلہ کریں گے کہ خیبرپختونخوا میں بائیومیٹرک سسٹم کا استعمال کیا جائے یا نہیں۔ تاہم بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال نہ صرف پختونخوا کے لیے ایک پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اگر یہی نظام سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں بھی استعمال ہو تو کیا برا ہے؟ نادرا کی مشکلات کا ادراک اور اپنے وسائل کو دیکھ کر پختونخوا انتظامیہ جلد فیصلہ کرے تا کہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا مرحلہ بحسن و خوبی طے ہو۔