تھری جی نیلامی سے 2 ارب ڈالر آمدن کی حکومتی توقعات غیر حقیقی قرار

لائسنس کی نیلامی میں مصنوعی طور پر مسابقت بڑھانے سے نجکاری کے منصوبوں پر بھی اثر پڑے گا،ذرائع


بھارت، آسٹریلیا وچیک ری پبلک کے تجربات کومدنظررکھ کرانٹرنیشنل بیسٹ پریکٹسزکی بنیاد پر اسپیکٹرم بلاک کی مناسب بیس پرائس مقرر کی جائے،ماہرین۔ فوٹو: فائل

ٹیلی کام انڈسٹری نے ملکی موجودہ صورتحال بالخصوص ٹیلی کام سیکٹر کو درپیش مسائل کے پیش نظر تھری جی لائسنس کی نیلامی سے 2 ارب ڈالر آمدن کی حکومتی توقعات کو غیرحقیقی قرار دے دیا ہے اور حکومت پر واضح کیا ہے کہ تھری جی لائسنس کی نیلامی میں مصنوعی طور پر مسابقت بڑھانے کی صورت میں حکومتی اداروں کی نجکاری کے منصوبوں پر بھی اثر پڑے گا۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے تھری جی آکشن کے ہدف میں 800 ملین ڈالر اضافے سے آکشن میں حصہ لینے کی خواہش مند کمپنیوں میں تشویش پھیل گئی ہے، انڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آکشن کی کامیابی کیلیے بھارت، آسٹریلیا اور چیک ری پبلک کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے انٹرنیشنل بیسٹ پریکٹسزکی بنیاد پر اسپیکٹرم بلاک کی مناسب بیس پرائس مقرر کی جائے، اسپیکٹرم کی شرائط و ضوابط اور بیس پرائس پر انڈسٹری کے ساتھ عوام سے بھی مشاورت کی جائے۔ انڈسٹری ماہرین کے مطابق تھری جی لائسنس کی بیس پرائس بڑھانے یا مصنوعی مسابقت کی صورت میں سنجیدہ سرمایہ کار اور آکشن میں حصہ لینے کی خواہش مند موبائل کمپنیوں کی دلچسپی کم ہوسکتی ہے۔

 photo 1_zpsa966ff38.jpg

آکشن کی بھاری فیس کی ادائیگی کی صورت میں کمپنیوں کیلیے انفرااسٹرکچر اور سروس کی فراہمی کیلیے سرمائے کی کمی ملک میں نئی ٹیکنالوجی کو عام کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، آکشن کی کامیابی کیلیے ضروری ہے کہ بیس پرائس کو کم سے کم مقرر کیا جائے اور حقیقی ویلیو کا تعین مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے، بیس پرائس کے تعین میں مقامی مارکیٹ کی صورتحال کو لازمی مدنظر رکھا جائے بالخصوص موبائل فون کمپنیوں کے گرتے ہوئے اوسط صارف ریونیو، پاکستان میں فی کس آمدن، معاشی ترقی کی شرح نمو اور ٹیلی کام انڈسٹری میں جاری سخت مسابقت کو سامنے رکھتے ہوئے آکشن کیلیے بیس پرائس کا تعین کیا جائے۔

ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آکشن کو کامیاب بنانے کیلیے دنیا کے دیگر ملکوں کے تلخ تجربات کو بھی مدنظر رکھا جائے جس طرح بھارت میں 2010میں ہونیوالے آکشن میں اسپیکٹرم لائسنس کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کیلیے خدمات کے پھیلائو میں سرمایہ کاری ممکن نہ ہوسکی اور آکشن کامیاب ہونے کے باوجود ٹیکنالوجی متعارف نہ کرائی جاسکی، ان ہی وجوہ کی بنا پر 2013میں آسٹریلیا میں بھی اسپیکٹرم نیلام نہ ہوسکا، پاکستان کیلیے جمہوریہ چیک کی مثال بھی معاون ہو سکتی ہے جہاں 2013میں آکشن کے دوران بولیاں ریزرو پرائس سے بہت زیادہ ہونے کے باوجود جمہوریہ چیک کے ریگولیٹر نے صارفین کے مفاد میں نیلامی کے عمل کو معطل کردیا تھا۔

مقبول خبریں