کرکٹ کو ہاکی نہ بنائیں

 جمعـء 16 جولائ 2021
بڑے کرکٹرز ماہانہ 50 لاکھ روپے سے زائد اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرا لیتے ہیں، مگر نتائج صفر ہیں۔ فوٹو: فائل

بڑے کرکٹرز ماہانہ 50 لاکھ روپے سے زائد اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرا لیتے ہیں، مگر نتائج صفر ہیں۔ فوٹو: فائل

آج آغاز ایک کہانی سے کرتے ہیں جو میرے ایک دوست کرکٹر نے مجھے واٹس ایپ پر بھیجی۔

’’ایک گاؤں میں چوہدری صاحب کے بیٹے سے قتل ہو گیا،اس کے خلاف ثبوت اور گواہ بھی موجود تھے،گاؤں کے ایک وکیل نے50ہزارروپے فیس کے عوض مقدمہ لڑنے کا کہا مگر چوہدری کو اطمینان نہ ہوا،انھوں نے شہر کے نامی گرامی وکیل کی3کروڑ روپے میں خدمات حاصل کر لیں،مگر وہ بھی ان کے بیٹے کو سزائے موت سے نہ بچا سکا، جب چوہدری صاحب فیصلہ سننے کے بعد تھکے ماندے ٹوٹا دل لیے واپس آ رہے تھے تو ان کا سامنا گاؤں والے وکیل سے ہوگیا،اس نے پوچھا جناب مقدمے کا کیا بنا تو چوہدری نے جواب دیا کہ وکیل کو3کروڑ روپے فیس بھی دی اور بیٹے کی زندگی بھی نہیں بچا سکا،گاؤں والے وکیل نے ہنس کر کہا چوہدری صاحب میں آپ کا یہ کام صرف50 ہزار روپے میں کرا دیتا،مگرآپ نہ مانے‘‘

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے، ہم نے ماضی کے بڑے کرکٹرز کوبھاری تنخواہوں پر کوچنگ کی ذمہ داری سونپی، وہ ماہانہ 50 لاکھ روپے سے زائد اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرا لیتے ہیں، مگر نتائج صفر ہیں، ہم زمبابوے سے بھی ہار جاتے ہیں اور اسٹار کرکٹرز سے عاری حریفوں کو شکست دے کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ جیسے ورلڈکپ جیت لیا، گذشتہ چند برس میں ہماری بیشتر فتوحات زمبابوے اور دیگر چھوٹی ٹیموں کے خلاف ہیں،مضبوط حریفوں سے 38میں سے صرف 7 میچز ہی جیتے۔

اب تو حد ہی ہو گئی، انگلینڈ کا پورا اسکواڈ قرنطینہ پر مجبور ہوا اور کاؤنٹی کرکٹرز کو جمع کرا کے سی ٹیم بنائی گئی، اس کیخلاف تو آسانی سے تینوں میچز جیت لینے چاہیے تھے لیکن شائقین کرکٹ نے حیرت سے دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں تب یقین آیا کہ 0-3سے سیریز گنوا بیٹھے ہیں، جب ہارنا ہی ہے تو چوہدری صاحب کی طرح کروڑوں روپے کیوں گنوائیں، یہ کام تو ہائی پرفارمنس سینٹر میں بہت کم تنخواہ پر کام کرنے والے نان ٹیسٹ کرکٹرز کوچز بھی کر سکتے ہیں۔

مصباح الحق کو کوچنگ کا کوئی تجربہ نہ تھا مگر پی سی بی کو یس مین کی ضرورت تھی اس لیے انھیں پاکستان کرکٹ کا سب سے طاقتور شخص بنا دیا گیا، ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ، چیف سلیکٹر سب کچھ وہی تھے، اس وقت وسیم خان سینہ ٹھوک کر اپنے فیصلے کا دفاع کر رہے تھے مگر بعد میں انہی وسیم خان نے مصباح کو چیف سلیکٹر کی پوسٹ سے ہٹایا،بیٹنگ کوچ کی ذمہ داری پہلے ہی ان سے واپس لے لی گئی تھی، اگر مصباح وزیر اعظم کے سامنے بے روزگار کرکٹرز کا مقدمہ نہ پیش کرتے تو شاید چیف سلیکٹر کی پوسٹ بھی نہ چھنتی، پوری زندگی ان پر دفاعی کرکٹر کا لیبل لگا رہا، مسٹر ٹک ٹک کا خطاب ملا۔

بطور کپتان بھی ان کی سوچ دفاعی تھی اور اب کوچ کی حیثیت سے بھی یہی انداز اپنایا ہوا ہے، میں نہیں مان سکتا کہ فخر زمان جیسا بیٹسمین اپنی مرضی سے 45 بالز پر 10 رنز بنائے گا، یقیناً کوچز نے ہی ان سے کہا ہوگا کہ ذرا دیکھ بھال کر کھیلنا، امام الحق ہمیشہ ٹیم میں اپنی پوزیشن بچانے کیلیے کھیلتے ہیں، اب اگر دونوں اوپنرز ہی دفاعی چوغہ پہن لیں تو ٹیم کا کیا بنے گا،بابر اعظم کا یہ اسٹائل ہے کہ وہ سلو آغاز کے بعد اسٹرائیک ریٹ بڑھاتے ہیں،محمد رضوان سے بھی ہم آتے ہی مار دھاڑ کی توقع نہیں کر سکتے۔

صہیب مقصود ون ڈے میٹیریل لگ ہی نہیں رہے جبکہ سعود شکیل بھی دیکھ بھال کر کھیلنے والے بیٹسمین لگتے ہیں، ایسے میں کبھی بابر یا رضوان ہی سیٹ ہونے کے بعد جارحانہ انداز اپنائیں تو300 سے زائد رنز بن سکتے ہیں، ورنہ 250 سے 270 تک ہی اسکور بنے گا جو جدید کرکٹ کیلیے ناکافی ہے، ٹیم سلیکشن بھی درست نہیں لگتی، ٹی ٹوئنٹی والوں کو ون ڈے اور ٹیسٹ میں رکھا گیا ہے، واٹس ایپ پر پیغام ملنے پر بھی بعض پلیئرزکا انتخاب ہوا، ایسے میں آپ کیسے جیت سکتے ہیں۔

وقار یونس عظیم فاسٹ بولر تھے لیکن کوچ بن کر انھوں نے اپنی اہمیت گھٹا لی، ہر بار انھیں نکالا جاتا ہے اور کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ سی وی لیے ملازمت پانے کیلیے بے قرار ہوتے ہیں، ان کے دور میں کسی ایک بولر کا نام بتا دیں جو امپروو ہوا ہے بلکہ اچھے بولرز کی کارکردگی بھی الٹا خراب ہی ہوئی،بیٹنگ کوچ یونس خان اچھا ہوا خود ہی چلے گئے ورنہ ان کے آنے سے بھی کسی بیٹسمین کی پرفارمنس میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دی تھی۔

ٹیم کی فیلڈنگ دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں بورڈ نے چوہدری صاحب کے گاؤں والے وکیل کی بات مان لی، یہاں جونٹی رہوڈز کو بھی لے آئیں وہ کچھ نہیں کر سکتا تو عبدالمجید سے کیا امید رکھیں، کھلاڑی محنت سے بھاگتے ہیں، جب تک وہ خود کوشش نہ کریں فیلڈنگ کیسے بہتر ہوگی، اب ورلڈ کپ چند ماہ کے فاصلے پر ہے،ہونا تو یہ چاہیے کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم اور پورے کوچنگ پینل کو گھر بھیج دیا جائے مگر اتنی جلدی اچھے نئے لوگ تلاش کرنا بورڈ کیلیے چیلنج ہوگا،کم از کم ٹی ٹوئنٹی میں تو جدید کرکٹ سے واقف کسی کوچ کو ہی لانا چاہیے۔

ہماری ون ڈے ٹیم تو بالکل بھی متوازن نہیں ہے، ٹی ٹوئنٹی کو تھوڑا بہتر کہا جا سکتا ہے،اب انگلینڈ کے تمام اسٹار کرکٹرز بھی اسکواڈ میں واپس آ چکے دیکھنا ہوگا کہ سیریز میں پاکستان کی کارکردگی کیسی رہتی ہے۔ ’’ورک فرام برطانیہ ہوم‘‘ والے بورڈ آفیشلز درباریوں کی خوشامد سے یہ سمجھنے لگے ہیں کہ انھوں نے ملکی کرکٹ کو زبردست بنا دیا ہے، وہ ذرا زوم کالز سے باہر کی دنیا میں آئیں توحقائق نظر آئیں گے۔

گراس روٹ کرکٹ تقریباً ختم ہو چکی، نیا ٹیلنٹ ملنا کم ہو گیا،اسی لیے فہیم اشرف جیسے خود ساختہ آل راؤنڈرز ہمیں سر گیری سوبرز اور امام الحق جیسے اوپنر ایڈم گلرسٹ لگتے ہیں، شائقین نے ویسے ہی اب کرکٹ کو فالو کرنا کم کر دیا ہے، یہ حال برقرار رہا تو آئندہ چند برسوں میں ہاکی اور کرکٹ ساتھ کھڑے ہوں گے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔