نیب کوعقیل ڈھیڈی سے متعلق ریکارڈ میں تبدیلی نہ کرنیکا حکم

جمعرات تک تبدیلی نہ کی جائے،جوکارروائی کی جائے عین قانون کے مطابق ہو،سندھ ہائیکورٹ


Staff Reporter January 24, 2014
نیب اوگرا کیس میں مدعی کیخلاف کوئی ثبوت حاصل نہیں کرسکا، عقیل کریم کا موقف۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر پرمشتمل سنگل بینچ نے نیب کوہدایت کی ہے کہ معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف جمعرات 23جنوری 2014 تک موجود ریکارڈ میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔

فاضل بینچ نے چیئرمین نیب سمیت مدعا علیہان کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ مدعی عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف جو بھی کارروائی کی جائے وہ عین قانون کے مطابق ہو، عقیل کریم ڈھیڈی نے بیرسٹرمرتضیٰ وہاب کے توسط سے چیئرمین نیب،سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان اور ایک نجی میڈیاگروپ کے سربراہ کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ2 سال کی مسلسل تحقیقات کے باوجود نیب اوگراکیس میں مدعی عقیل کریم کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہیں کرسکا،دعوے میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ وقاص احمد خان کی 6نومبر 2013 کی تیار کردہ 63صفحات پر مبنی رپورٹ میں 13افراد کو ملزمان نامزد کیا گیا ہے ان میں عقیل کریم ڈھیڈی کا نام شامل نہیں ، بلکہ رپورٹ کے صفحات46اور 47پر اوگرا کے حصص کی اسٹاک ایکسچینج میں خریدوفروخت کا ذکرکیا گیا ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ یہ معاملہ نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتا بلکہ اس معاملے میں ایس ای سی پی کو مداخلت کرنا چاہیے۔

 photo 7_zpsae877d67.jpg

عقیل کریم ڈھیڈی نے موقف اختیارکیا ہے کہ چند ماہ تک نیب کے سینئر حکام سے رابطوں میں ان کی جانب سے یہ موقف سامنے آرہا تھا کہ مدعی کا اوگرا کیس میں کوئی کردار نہیں ہے اس لیے ریفرنس میں نام شامل نہیں کیاجائے، تاہم نیب کے اندرونی ذرائع سے علم ہوا کہ 22جنوری کو ہونیوالے ایک اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک میڈیا گروپ کے دبائو پرچیئرمین نیب کی خواہش ہے کہ عقیل کریم ڈھیڈی کا نام اوگرا کیس میں داخل کیا جائے ، اس کے ساتھ ہی میڈیا گروپ میں عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے تاکہ مدعی کے حریف جہانگیرصدیقی گروپ کو فائدہ پہنچایا جاسکے،مدعی کے مطابق ایس ای سی پی بھی ملک کے اس بڑے میڈیا گروپ کے اشاروں پرکام کررہا ہے جس سے مدعی کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ،دعوے میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ مدعا علیہان کے اقدامات غیرقانونی ہیں اس لیے انھیں ہدایت کی جائے کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں ، کیونکہ اس صورتحال سے کاروباری برادری میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے ۔