عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ

مذاکرات کی دعوت کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ریاستی اداروں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں


Editorial January 24, 2014
مذاکرات کی دعوت کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ریاستی اداروں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں. فوٹو: فائل

ملک میں عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور بگڑتی ہوئی سیکیورٹی کی صورت حال کے تناظر میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے مشاورت کے بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں پاک فوج کو تیاری کا حکم دے دیا ہے۔ جمعرات کو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت پی ایم ہاؤس اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ غیر معمولی صورت حال میں بلا تاخیر غیر معمولی اقدامات کیے جائیں۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران ریاست سے برسرپیکار تمام گروپوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم نے عسکری قیادت کو مکمل آپریشن پلان تشکیل دینے کی ہدایت کی' ابتدائی طور پر شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ذرایع کے مطابق پاک فوج کی جانب سے آپریشنل پلان پیش کیے جانے کے بعد وزیر اعظم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا قوم سے خطاب میں آپریشن کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

ملک میں دہشت گردی کی لہر تو ایک عرصے سے جاری ہے مگر گزشتہ دنوں کراچی میں ایس پی چوہدری اسلم کا قتل' بنوں اور راولپنڈی میں فوج حملے ہوئے اور پھر سانحہ کوئٹہ رونما ہو گیا' اس کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا اور اس کے پاس دو ہی راستے رہ گئے کہ یا تو وہ انتہا پسندی کی راہ پر چلنے والے عسکریت پسند گروہوں کے سامنے جھک جائے اور ان کے تمام مطالبات و شرائط کو من و عن تسلیم کر لے یا پھر حکومت اپنی رٹ بحال کرنے کے لیے ان گروہوں کو کچل دے۔ عسکریت پسندوں کی جانب سے کارروائیوں کے باوجود ریاست پاکستان نے جلد بازی میں کوئی قدم اٹھانے کے بجائے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور شروع دن ہی سے معاملات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی اور ریاست سے لڑنے والے گروہوں کو بار ہا مواقع دیے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں تا کہ کسی ممکنہ جنگ سے بچا جا سکے لیکن ان عسکریت پسند گروہوں نے مذاکرات کا راستہ اپنانے کے بجائے ریاستی اداروں پر اپنے حملوں میں تیزی پیدا کر دی اور حکومت پر اپنی طاقت کا بھرپور اظہار کرنے لگے' ان کی ان کارروائیوں کے باعث اب مذاکرات کا آپشن ناکام ہوتا معلوم ہونے لگا ہے۔

حکومت کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ریاستی اداروں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور نہ صرف ان کی ذمے داری قبول کی بلکہ مستقبل میں بھی انھیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا جاتا رہا۔ تحریک طالبان نے مذاکرات کرنے کا اظہار تو کیا مگر اس کے لیے ایسی شرائط پیش کیں جن میں عالمی تنازعات کو شامل کر کے ریاست سے مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ عالمی تنازعات میں ان کے موقف کی تائید کرے۔ عسکریت پسند اگر مقامی نوعیت کے مطالبات اور علاقائی مسائل کے حل کی شرائط پیش کرتے تو حکومت انھیں حل کرنے کی یقین دہانی پر مذاکرات کر سکتی تھی اس طرح دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا مگر عسکریت پسندوں کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط میں عالمی نوعیت کے تنازعات کی شمولیت ریاست پاکستان کے دائرہ کار سے باہر ہے' ایسے میں ریاست انھیں حل کرنے کا کیسے یقین دلا سکتی ہے۔ عسکریت پسند کبھی ڈرون حملے بند کرانے کا آپشن پیش کرتے اور کبھی حکومت کو غیر اسلامی اور امریکی غلام قرار دیتے ہیں اور کبھی پاک فوج پر یہ الزام دھرتے ہیں کہ وہ امریکا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

انھوں نے آئین پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا' ایسے میں مذاکرات کے آغاز کی راہ میں رکاوٹیں ان کی جانب سے پیدا کی جاتی رہی ہیں۔ حکومت مذاکرات میں سنجیدگی دکھاتی رہی مگر عسکریت پسند مذاکرات شروع کرنے کے بجائے حکومت پر غیر سنجیدہ اور پر خلوص نہ ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف لڑنے والے ان گروہوں نے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ریاست پر دباؤ بڑھانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ریاست نے کسی باغی تنظیم کے مطالبات کو من و عن تسلیم کر لیا ہو اور ان کے سامنے جھک گئی ہو۔ عسکریت پسندوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ ریاست کو جھکانے کی کوشش کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر آئیں اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا اور نہ کر رہے ہیں بلکہ ریاستی اداروں پر حملے کر کے برملا اس کی ذمے داری قبول کر رہے ہیں۔ ان حالات میں ریاست کے پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ اپنی رٹ بحال کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر طاقت کے اظہار کا راستہ اپنائے۔

حکومت نے اب بھی مذاکرات کا راستہ بند نہیں کیا بلکہ اس کا آپشن کھلا رکھا ہے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے شرکاء کی اکثریت میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ حکومتی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے البتہ کسی عسکریت پسند گروپ کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے اگر سنجیدہ رابطہ کیا گیا تو بات چیت سے انکار بھی نہیں کیا جائے گا۔ اب بھی ریاست مخالف گروہوں کے پاس وقت ہے کہ وہ آپریشن شروع ہونے سے قبل ریاست سے مذاکرات کی میز پر آ جائیں اور اس بات کا واضح عندیہ دیں کہ وہ اپنی کارروائیاں ترک کر کے پرامن زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں اور وہ مستقبل میں ریاستی اداروں سے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اگر وہ ایسا پیغام دیں تو ممکن ہے کہ جنگ کے جو بادل چھا رہے ہیں وہ چھٹ جائیں اور ملک خون ریزی سے بچ جائے ورنہ آپریشن ہوا تو اس میں نئے انسانی المیے جنم لیں گے، بہت سے لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ سوات کی مثال سب کے سامنے ہے جب ایک بہت بڑی آبادی کا انخلا ہوا تھا۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی ہو گی اور آپریشن کی صورت میں علاقہ چھوڑنے والے لوگوں کی آباد کاری کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ اگر ریاست سے برسرپیکار لوگوں نے اب بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور حکومت کے لیے چیلنج بنے رہے تو پھر حکومت کے پاس بھی آپریشن کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔ عسکریت پسند گروہ اس حقیقت کا ادراک کر لیں کہ وہ ریاست کو کبھی شکست نہیں دے سکتے لہذا وہ بندوق کا راستہ چھوڑ کر امن کا راستہ اپنائیں اور بلا تاخیر مذاکرات کا عمل شروع کریں۔