صحابہ اور اہلبیت کی ناموس کا تحفظ حکومتی ذمے داری ہےاورنگزیب فاروقی

اورنگزیب فاروقی نے کہا ہے کہ فرقہ واریت کے خاتمے کیلیے توہین رسالت کی طرح توہین صحابہ کے لیے قانون سازی ناگزیر ہے۔


Staff Reporter September 10, 2012
فرقہ واریت کے خاتمے کیلیے توہین رسالت کی طرح توہین صحابہ کے لیے قانون سازی ناگزیر ہے, اورنگزیب فاروقی۔

لاہور: اہلسنت و الجماعت کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہا ہے کہ فرقہ واریت کے خاتمے کیلیے توہین رسالت کی طرح توہین صحابہ کے لیے قانون سازی ناگزیر ہے۔

توہین رسالت قانون کیلیے علمائے حق کی قربانیاں قابل فخر ہیں،صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ کی ناموس کا تحفظ حکومت کی ذمے داری ہے ، حکومت اگر چاہے تو شیعہ سنی مسئلہ ایک دن میں حل ہو سکتا ہے ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی ایجنسیوں پر کڑی نگاہ رکھنا حکومت کی ذمے داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے مرکز اہلسنت سے جاری بیان میں کیا،انھوں نے کہاکہ قانون سازی کے بغیر فرقہ واریت کے بیج کو ختم نہیں کیا جاسکتا حالات اس وقت خراب ہوتے ہیں جب مقدس شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے انھوں نے کہاکہ شیعہ سنی مسئلے کے حل کے لیے سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، موجودہ چیف جسٹس اگر اس مسئلے کے حل کے لیے قدم اٹھائیں تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔