ہزاروں کلومیٹر سفر طے کرنے والی نایاب چمگادڑ کو بلی نے مارڈالا

لندن سے روس تک پرواز کرنے والی چمگادڑ نے کل 2000 کلومیٹر کا سفر طے کیا جس پر چڑیا گھر کا نشان تھا


ویب ڈیسک August 09, 2021
تصویر میں نایاب چمگادڑ Nathusius' pipistrelle نمایاں ہے جو اپنی طویل پرواز کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ فوٹو: وکی میڈیا کامنز

لندن سے روس تک دوہزار کلومیٹر کا طویل سفر کرنے والی نایاب چمگادڑ کو ایک بلی نے مارڈالا ہے۔ اس مادہ چمکادڑ پر لندن چڑیا گھر کا علامتی نشان ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اسے ایک بلی نے مارڈالا ہے۔

انسانی انگوٹھے جتنی چھوٹی یہ مادہ چمگادڑ Nathusius' pipistrelle کہلاتی ہے ۔ اس پر لندن چڑیا گھر کی طرف سے لگایا گیا ایک علامتی نشان تھا۔ روس پہنچنے پر چمگادڑوں کا تحفظ کرنے والے گروہ نے اسے بازیاب کرایا اور اس کی جان بچانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی۔

اس ننھی مخلوق کا وزن صرف آٹھ گرام تھا جو ایک چھوٹے سے روسی گاؤں مولگائنو کی رہائشی سویتلنا لاپینا کو ملی جس کی تفصیل برطانیہ کے بیٹ کنزوریشن ٹرسٹ نے شائع کی ہیں۔

چمگادڑوں کی ماہر لیزا وورلیج نے کہا کہ یہ چمگادڑ کی طویل ترین مسافت تھی جو اس سے قبل ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس سے ان جانوروں کی نقل مکانی اور دیگر سائنسی راز فاش ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ایک براعظم سے دوسرے تک ان کی مسافت کسی معمے سے کم نہ تھی۔ چمگادڑ کو 2016 میں ایک چھلا پہنایا گیا تھا جس میں بار کوڈ لگا تھا اور ایک پر بھی علامتی نشان لگایا گیا تھا۔

اس سے قبل اسی نسل کی ایک اور چمگادڑ نے لیٹویا سے اسپین تک کی اڑان بھری تھی اور 2224 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔ یہ جانور بہت نایاب ہے اور ایسی 2600 چمگادڑیں ہی برطانیہ میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔