حکومتی رہائشی منصوبے غیر موثر رہے غریب فائدہ نہ اٹھاسکے

غریب شہری رہائش کیلیے رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں اگر غریب افراد اپنی آمدنی کا 20 فیصد مختص کردیں. تسنیم صدیقی


ماہم مہر January 27, 2014
غریب شہری رہائش کیلیے رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں اگر غریب افراد اپنی آمدنی کا 20 فیصد مختص کردیں. تسنیم صدیقی

ملک کی68 فیصد غریب آبادی اپنی دسترس میں آنے والی ایک فیصد زمین سے اپنا حصہ وصول کرنے کی جدوجہد کررہی ہے۔

امیر اور متوسط طبقے کیلیے زمین اور پیسے کی کمی نہیں ہے،غریبوں کیلیے بنائی جانے والی سستی ہائوسنگ اسکیموں میں پلاٹ کا سائز80 گز تک محدود اور بنیادی سہولتوں کی موثر فراہمی کے ذریعے سرمایہ کاروں اور قبضہ مافیا سے بچا جاسکتا ہے،کراچی کے8 کنٹونمنٹ بورڈز سے باآسانی 2 ہزار ایکڑ زمین سستے رہائشی منصوبوںکیلیے نکالی جاسکتی ہے ان خیالات کا اظہار ایکسپریس ٹریبون سے گفتگو میں سابق چیف سیکریٹری اور کراچی و حیدرآباد میں سستی اور کامیاب رہائشی اسکیموں کے خالق تسنیم صدیقی نے کیا، پاکستان میں شہروں کی جانب تیزی سے نقل مکانی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کیلیے تسنیم صدیقی کا مقالہ حال ہی میں عالمی ادارے وڈرو ولسن سینٹر کی جانب سے شائع کیا گیا ہے.

 photo 5_zps34f0bda0.jpg

تسنیم صدیقی نے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ 66 سال کے دوران حکومت نے غریبوں کیلیے سستے رہائشی منصوبے بنائے تاہم یہ غیر موثر رہے یا غریب ان سے فائدہ ہی نہ اٹھاسکے گزشتہ 30 سال کے دوران حکومت نے سستے رہائشی منصوبوں پر کوئی کام نہیں کیا،حکومتی عہدیدار لاپروا ہیں، لوگوں کو رہنے کیلیے جگہ درکار ہے رہائشی زمین دسترس سے باہر ہونے کے نتیجے میں لوگ تیزی سے شہروں کا رخ کررہے ہیں، اگر کراچی کی آبادی کو ایک کروڑ 80 لاکھ مان لیا جائے اور ہر سال اس میں 2 فیصد کا اضافہ کیا جائے تو بھی ہرسال شہر کی آبادی میں 3 لاکھ 60 ہزار افراد کا اضافہ ہورہا ہے، کراچی کا مسئلہ اختیارات کی تقسیم ہے، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور اس جیسے دیگر ادارے صوبائی حکومت کے بجائے شہری حکومت کے ماتحت ہونے چاہئیں، ایک دور میں سندھ میں ہائوسنگ کے 4 وزیر اور وزیراعلیٰ کا ہائوسنگ سیل کام کررہا تھا۔

غریب شہری رہائش کیلیے رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں اگر غریب افراد اپنی آمدنی کا 20 فیصد مختص کردیں حتیٰ کہ اگر اس کی آمدنی 10 ہزار روپے مہینہ بھی ہو تو وہ آہستہ آہستہ اپنا گھر خرید سکتا ہے، سستے رہائشی منصوبے کیلیے جگہ مختص کرکے ہر سال آسان قسطوں میں اس کی قیمت وصول کی جائے اور 20 سال بعد جب وہ ادائیگی مکمل ہوجائے تو قبضہ فراہم کردیا جائے، ملک میں امیر افراد زمین کو سرمایہ کاری کے نکتہ نظر سے خریدتے ہیں اور وہ جگہ خالی رہتی ہے کچھ عرصہ قبل کے اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں 3 لاکھ پلاٹ خالی تھے جبکہ صوبے کے 40 فیصد لوگ کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور تھے،ان مسائل سے نمٹنے کیلیے ضروری ہے کہ ہر صوبے میں سستی رہائشی اسکیموں کیلیے حکومتی سرپرستی میں تعمیراتی ادارے قائم کیے جائیں، ایک ایکڑ زمین پر 1500 افراد کیلیے گھر تعمیر کیے جائیں تو مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں