حقیقی وقت میں کنٹرول ہونے والا نرم اور کم خرچ مصنوعی ہاتھ

امریکی اور چینی ماہرین کے تیارکردہ مصنوعی ہاتھ ضرورت کے وقت سکڑاورپھیل کر گرفت کی معلومات بھی فراہم کرتا ہے


ویب ڈیسک August 18, 2021
میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے حقیقی وقت میں فیڈ بیک فراہم کرنے والا کم خرچ اور نرم مصنوعی ہاتھ تیار کیا ہے۔ اس کا وزن صرف ایک پونڈ ہے اور یہ مہنگے متبادل ہاتھوں سے کئی گنا بہتر ہے۔ فوٹو: بشکریہ زوان ہے ژیاؤ شوٹنگ لِن

دنیا بھر میں ہاتھوں سے محروم افراد کے لیے ایک اچھی خبر ہے کہ اب ایک نرم، کم خرچ اور وقت کے ساتھ ساتھ سکڑنے اور پھیلنے والا مصنوعی بازو بنایا گیا ہے جو پہننے والے کو اس کی معلومات (ٹیکٹائل فیڈ بیک) بھی فراہم کرتا ہے۔

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور چین میں واقع جیاؤ تونگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مل کر مصنوعی ہاتھ بنایا ہے جس کی بدولت گلاس اور دیگر ہلکی اشیا کو گرفت کرنے اور اٹھانے میں مدد ملے گی۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیاں ضرورت کے لحاظ سے مسلسل پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زائد افراد پورے یا نصف بازو سے محروم ہیں جنہیں روزمرہ کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

اگرچہ کئی طرح کے جدید برقی مصنوعی ہاتھ بازار میں دستیاب ہیں جنہیں پہننے والا کچھ نہ کچھ محسوس بھی کرتا ہے لیکن وہ بہت ہی مہنگے اور بھاری بھرکم ہوتےہیں۔ لیکن اس بازو کا وزن صرف 225 گرام اور قیمت 500 ڈالر ہے۔ یوں دنیا کے بہت سے لوگ اسے خرید کر اپنی معذوری کا کچھ حد تک ازالہ کرسکیں گے۔



اس کی خاص بات انگلیاں ہیں جو لچکدار ایلاسٹومر سے بنی ہیں جو بازار میں ایکوفلیکس کے نام سے دستیاب ہے۔ اس کے اندر ہڈی نما ساختیں شامل کی گئی ہیں۔ اس میں تھری ڈی پرنٹر سے ہتھیلی بنی ہے۔ اگلے مرحلے میں ہاتھ اور انگلیوں کے اندر موٹروں کی بجائے چھوٹے والو اور پمپ لگائے گئے۔ ان کی بدولت ہوا اندر جاتی ہے اور لچکدار مٹیریئل پھیلتا ہے اور ہوا کھینچنے سے سکڑ جاتا ہے۔ لیکن یہ عمل بہت محتاط انداز سے ہوتا ہے اور ہوا کی مقدار کے لحاظ انگلیاں پھیلتی اور سکڑتی ہیں۔ نیومیٹک سسٹم میں بہت حساس ای ایم جی سینسر لگے ہیں جو کلائی پر بندھے ہیں۔

اس عمل کو ممکن بنانے کے لیے کمپیوٹر ماڈلنگ سے مدد لی گئی ہے جس کے بعد ہاتھ چٹکی بھرنے سے لے کر گلاس اٹھانے کے قابل بھی ہوگیا۔ یہاں ایک الگورتھم پٹھوں کے سگنلوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے گرفت کا دباؤ کم یا زیادہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ مختلف انگلیوں میں دباؤ کی مختلف مقداریں شامل کی جاسکتی ہیں۔

تیاری کے بعد دو رضاکاروں نے اسے استعمال کیا اور پانچ مختلف انداز سے اشیا تھامنے کے تجربات کئے۔ ان میں قلم سے لکھنے، ڈھیر لگانے، نازک شے اٹھانے، کوئی بھاری شے پکڑنے اور گرفت کے دیگر انداز شامل تھے۔ یعنی اس سے نرم کیک پکڑ کر کھایا جاسکتا ہے اور ہتھوڑی بھی اٹھائی جاسکتی ہے۔ پھر اس کا موازنہ بازار میں دستیاب مہنگے مصنوعی ہاتھوں سے کیا گیا تو رضاکاروں نے ایم آئی ٹی کی ایجاد کو مؤثر، بلکہ بہتر قرار دیا۔

اگلے مرحلے میں رضاکاروں کی آنکھیں بند کرکے سائنسدانوں نے ان کی ایک ایک انگلی کو چھوا اور پوچھا کہ وہ اس کا احساس کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد مختلف جسامت کی بوتلیں ان کے ہاتھوں پر رکھی گئیں۔ رضاکاروں نے بھی اس کا درست جواب دیا۔

اگر یہ ایجاد کمرشل تجربات کے بعد مارکیٹ میں پیش کی گئی تو جلد اپنی جگہ بنالے گی۔