افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چار ممالک ایران، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے دورے پر روانہ ہوگئے، پہلے مرحلے میں وہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے پہنچ گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، نئی حکومت کی تشکیل اور طالبان کو تسلیم کیے جانے کے معاملات پر بات کرنے کے لیے وزیر خارجہ چار ممالک کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوگئے۔ ان ممالک میں ایران، ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔
دورے کے دوران وزیر خارجہ، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کے لیے ان ممالک کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔
دریں اثنا وزیر خارجہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ پہنچ گئے جہاں ہوائی اڈے پر تاجکستان کے نائب وزیر خارجہ فرہاد سلیم، پاکستان کے سفیر عمران حیدر اور سفارت خانے کے سینئر افسران نے ان کا خیر مقدم کیا۔
وزیر خارجہ بدھ کو دوشنبے میں تاجک ہم منصب سراج الدین کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وزیر خارجہ صدارتی محل جائیں گے اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ، افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔
وزیر خارجہ کے اس چار ملکی دورے کا مقصد، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں، علاقائی سطح پر درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور متفقہ لائحہ عمل اپنانے کے لیے خطے کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشاورت کرنا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر خارجہ کا یہ چار ملکی دورہ، افغانستان میں دیرپا قیام امن اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ یہ دورہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر کر رہے ہیں۔