چین کی طالبان کو افغانستان کی تعمیر و ترقی میں مدد کی پیشکش

طالبان سب کے لیے قابل قبول شراکت داری پر مبنی حکومت اور معتدل پالیسیاں بنائیں، چین


ویب ڈیسک September 01, 2021
طالبان معتدل پالیسیاں بنائیں، ترجمان وزارت خارجہ (فوٹو: فائل)

چین نے افغانستان میں قیامِ امن اور تعمیرِ نو کے لیے طالبان کو مشروط مدد کی پیشکش کی ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے چائنا نیوز سروس کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر طالبان شراکت داری پر مبنی حکومت قائم کرتے ہیں اور دہشت گرد جماعتوں سے دوری اختیار کرتے ہیں تو اس صورت میں افغانستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور مدد کریں گے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وینگ وین بِن نے طالبان پر دہشت جماعتوں سے رابطے منقطع کرنے پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت کو خوش آمدید کہیں گے جس میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہو۔

یہ خبر پڑھیں : امریکا نے 20 سالہ افغان جنگ میں 'صفر' کامیابی حاصل کی، روسی صدر

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ چین کو امید ہے کہ طالبان افغانستان میں تمام فریق افغان عوام کی خواہشات اور عالمی برادری کی توقعات کا احترام کریں گے اور سب کے لیے قابل قبول معتدل پالیسیاں بنائیں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : ذلت آمیز انخلا کی ذمہ دارافغان فوج کی بزدلی ہے، صدر جوبائیڈن

طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کے حوالے سے چینی ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت کے اعلان کے بعد ہی اس کا فیصلہ کیا جائے گا اور یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ حکومت کے خدوخال کیا ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان نے غیرملکی پرچموں میں لپٹے تابوتوں کا جلوس نکالا

واضح رہے کہ قطر میں موجود طالبان کے مذاکراتی وفد کے سربراہ شیر عباس ستاکزئی نے کہا ہے کہ آئندہ 3 روز میں حکومت کا اعلان کردیا جائے گا جس میں خواتین کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔