کرکٹ پر بھارتی اجارہ داری کا خواب چکنا چور

برطانوی سرزمین پر جنم لینے والے کھیل میں پیسے کے عمل دخل نے کرکٹ کو کھیل سے زیادہ ایک صنعت کا درجہ دے دیا


Editorial January 29, 2014
برطانوی سرزمین پر جنم لینے والے کھیل میں پیسے کے عمل دخل نے کرکٹ کو کھیل سے زیادہ ایک صنعت کا درجہ دے دیا. فوٹو:فائل

ABBOTABAD: کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے، ہر فرد کی دلچسپی کسی نہ کسی صورت میں اس کھیل سے وابستہ ہے، برطانیہ کی سرزمین پر جنم لینے والے اس کھیل میں پیسے کے عمل دخل نے کرکٹ کو کھیل سے زیادہ ایک صنعت کا درجہ دے دیا ہے، جن ممالک میں یہ کھیل کھیلا جاتا ہے، لاکھوں کروڑوں ڈالر کی آمدنی نے سوچ کے انداز بدل دیے ہیں، اب تو یہ کھیل زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے اور اس پر اجارہ داری کی خواہش میں بدل چکا ہے، آئی سی سی کے منگل کو ہونے والے ہنگامہ خیز اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ ''تھری بگ'' کی راہ میں رکاوٹ بن گیا، انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کا دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرنے کا خواب فوری طور پر پورا نہ ہو سکا، اور یہ معاملہ اگلی میٹنگ تک موخر ہو گیا، ذکا اشرف نے پاکستان پر عائد کیے جانے والے الزامات کا بھرپور انداز میں دفاع کیا، پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا رہا جب کہ جنوبی افریقہ، سری لنکا اور بنگلہ دیش اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہ اجلاس بغیر کسی متفقہ فیصلے کے اختتام پذیر ہوا، سابق کپتان عامر سہیل نے بگ تھری کے بارے میں فیصلہ نہ ہونے کو پاکستان کی فتح قرار دیا ہے جب کہ مطلب برآری کے بعد بھارتی عزائم بے نقاب ہو گئے۔

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے کہا ہے کہ چھ ماہ سے کرکٹ پر قبضے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں اب یہ کرکٹ بورڈز پر منحصر ہے کہ اس کا راستہ کیسے روکتے ہیں۔ دراصل کرکٹ اب مکمل کمرشلائیز کھیل بنتا جا رہا ہے جس کے باعث اس کی کھیل کی اسپرٹ کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے، بھارت نے تو آئی پی ایل کے ذریعے کمائی کا ذریعہ پہلے ہی ڈھونڈ لیا تھا، کسی پاکستانی کھلاڑی کے لیے آئی پی ایل کے دروازے کھولے نہیں گئے، اب وہ اس کھیل کو اپنے گھر کی لونڈی بنانا چاہتا ہے بقول ایک کرکٹ مبصر کے بھارت اب کرکٹ کے میدانوں میں سب سے بڑا ڈکٹیٹر بننے جا رہا ہے۔ درست بات ہے کھیل کو کھیل رہنے دیا جائے اس کو محض کمائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے نہ اس پر اجارہ داری قائم کی جائے اور نہ اسے سیاسی اکھاڑہ بنایا جائے۔