مثبت پیش رفت

حکومت نے مذاکرات کا جو راستہ اپنایا ہے وہ ہر صورت سنجیدہ اور بامقصد ہونا چاہیے


Editorial January 30, 2014
حکومت نے مذاکرات کا جو راستہ اپنایا ہے وہ ہر صورت سنجیدہ اور بامقصد ہونا چاہیے. فوٹو:ایکسپریس نیوز

حکومت نے مسلح جدوجہد کرنے والے شدت پسندوں سے مذاکرات کا فیصلہ کر کے مثبت جانب پیش رفت کی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی یا مذاکرات کے حوالے سے ملک میں پچھلے کئی ماہ سے جو ابہام موجود تھا وہ اب ختم ہو گیا ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ امن کی خواہش کے تحت حکومت مذاکرات کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی' انٹیلی جنس بیورو کے سابق افسر میجر (ر) محمد عامر' صحافی رحیم اللہ یوسف زئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں' رستم شاہ مہمند کو خیبر پختونخوا حکومت نے نامزد کیا ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مذاکراتی عمل کے فوکل پرسن ہیں جو کمیٹی کی معاونت کریں گے اور وزیر اعظم براہ راست مذاکراتی عمل کی نگرانی کریں گے۔

حکومت نے امن و امان کی بحالی اور ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالنے کے لیے چند ماہ قبل بھی تحریک طالبان سے مذاکرات کا عندیہ دیا تھا مگر حکیم اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد حالات نے نیا رخ اختیار کر لیا اور مذاکرات کی جو بات چلی تھی وہ تعطل کا شکار ہو گئی۔ تاہم حکومت نے اس موقع پر نہایت سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنے کا عندیہ دیا۔ اس دوران امن و امان کے حوالے سے بعض ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھایا جانے لگا کہ وہ مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اپنائے اور ملک میں امن و امان کی بحالی ہر صورت یقینی بنائےتاہم حکومت نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور کسی قسم کی قتل و غارت سے بچنے کے لیے مذاکرات ہی پر اپنا موقف قائم رکھا۔ حکومت کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ مذاکرات سے ہٹ کر اپنایا گیا دوسرا راستہ بہت سے المیوں کو جنم دے گا اور بعد ازاں جو مسائل پیدا ہوں گے وہ پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ اور گمبھیر ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ وہ ماضی کے تلخ تجربات کو پس پشت رکھتے ہوئے پرامن حل کا ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں' مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مکمل نیک نیتی کے ساتھ اس عمل کا آغاز کیا جائے جس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ بدامنی کو جنم دینے والے واقعات کو فوری طور پر بند کر دیا جائے کیونکہ مذاکرات اور بدامنی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

حکومت کی جانب سے جب بھی مذاکرات کی بات کی جاتی تھی تو تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جاتا کہ وہ پہلے اپنا خلوص اور نیک نیتی ظاہر کرے جب تک حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرے گی' مذاکرات کا عمل شروع نہیں ہو گا۔ اب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دو ٹوک اعلان کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا عمل نیک نیتی سے کر رہے ہیں جس کا واضح مقصد ہے کہ آگ اور بارود کا یہ کھیل اب ختم ہو جانا چاہیے۔ مذاکرات کے لیے حکومت کے خلوص اور نیک نیتی ہی کا اثر ہے کہ تحریک طالبان نے بھی پہلی بار اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مذاکرات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کے فیصلے کو سنجیدہ لیا ہے' تحریک طالبان کی مرکزی شوریٰ حکومت کے فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لے کر چند دنوں میں اپنے موقف سے آگاہ کرے گی۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ حکومت اور طالبان نے پہلی بار مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس سے قبل کہا جا رہا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کرنے کی خواہاں ہے تو وہ اس کے لیے کسی کمیٹی اور واضح ایجنڈے کا اعلان کرے۔ اب حکومت نے باقاعدہ کمیٹی کا اعلان کر کے مذاکرات کے حوالے سے پیدا ہونے والے تمام شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔

اب تحریک طالبان کو بھی چاہیے کہ وہ جلد از جلد اپنی کمیٹی کا اعلان کریں تا کہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو سکے۔ مذاکرات کا سلسلہ فوری شروع ہونا چاہیے اس میں جتنی تاخیر ہو گی اتنے ہی مسائل اور پیچیدگیاں بڑھتی جائیں گی اور اس کا نقصان دونوں فریقین کو پہنچے گا کیونکہ بعض نادیدہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ مذاکرات کا عمل شروع ہو۔ وہ ہر صورت اس کا راستہ روکنے کی کوششیں کریں گی۔ اس لیے دونوں فریقین کی جانب سے مذاکرات کا سلسلہ بلا تاخیر شروع کیا جانا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کی اتحادی جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی اور مطالبہ کیا کہ مذاکرات کو خفیہ نہ رکھا جائے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی کہا کہ اگر حکومت مذاکرات سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں۔

حکومت نے مذاکرات کا جو راستہ اپنایا ہے وہ ہر صورت سنجیدہ اور بامقصد ہونا چاہیے۔ دونوں فریقین کو کوشش کرنا چاہیے کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں اور اس کا مثبت حل نکلے اور ملک میں امن و امان بحال ہو۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذاکرات اگر پہلے راؤنڈ میں کامیاب نہ ہوں تو معاملات حل کرنے کے لیے مذاکرات کے مزید راؤنڈ طے کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی وجہ سے حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوتے تو اسے تعطل کا شکار کرنے کے بجائے اس کا سلسلہ جاری رکھا جانا چاہیے تا کہ مسائل کا مثبت حل نکل سکے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی حکومتی موقف کی حمایت کی ہے۔ حکومت نے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی ہے اس کے چاروں افراد سمجھ دار اور تجربہ کار ہیں' تحریک طالبان نے بھی ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں فریقین مذاکرات کو بامقصد اور کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔