صدر اوباما کا خطاب اور عالمی حقائق

امریکا کو ہر مسئلے میں ٹانگ اڑانے اور بالادستی کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی


Editorial January 30, 2014
امریکا کو ہر مسئلے میں ٹانگ اڑانے اور بالادستی کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی. فوٹو:اے ایف پی /فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا کے خلاف نفرت بڑھنے کے پیش نظر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرون حملے کم کر دیے ہیں، متاثرہ ملکوں میں ڈرون کی مخالفت بڑھی تو امریکا بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ بات انھوں نے واشنگٹن میں اسٹیٹ آف دی یونین کے خطاب میں کہی۔ مجموعی اعتبار سے صدر اوباما کے اس پانچویں خطاب کو امریکی اور دیگر عالمی میڈیا نے دبنگ تقریر سے تعبیر کیا ہے اور اسے آیندہ کا روڈ میپ قرار دیا ہے جس میں ڈرون حملوں سے پیدا شدہ عالمی نفرت کا ادراک ایک خوش آیند پہلو ہے۔ پاکستان ان ملکوں میں سر فہرست ہے جس نے فاٹا اور بندوبستی علاقے میں ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والے ہولناک اثرات و مضمرات اور پاکستانی عوام میں امریکا مخالف جذبات کے بارے میں اپنی معروضات، مطالبات منطقی انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کیے، بالآخر صدر اوباما کو بھی احساس ہوا ہے کہ ڈرون حملے مسائل بڑھا رہے ہیں چہ جائیکہ کم کریں۔

اس لیے اب مسئلہ کشمیر و فلسطین کے حل اور گوانتانامو بے جیل کی بندش اور دیگر عالمی تنازعات کے تصفیہ میں بھی صدر اوباما کو پیش قدمی کرنا چاہیے۔ بہرکیف ان کے سابقہ دور حکومت اور نئے دورانئے کے ابتدائی ثمرات و مراعات پر امریکی عوام ہی درست رائے دے سکتے ہیں، لیکن مبصرین کے مطابق عالمی ایشوز اور امریکا کو درپیش مختلف بین الاقوامی امور، تنازعات اور چیلنجوں کے حوالے سے صدر اوباما کا خطاب بلاشبہ غیر مبہم غیر روایتی ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی سماج اور شہریوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے کمٹمنٹ پر مبنی ہے ۔ اس پر کئی جہتی بحث بھی جاری ہے مثلا خطاب کے فوری بعد مخالف حلقوں نے صدر کے دو روزہ بین ا لریاستی دورے کو ''روڈ شو'' کا نام دیا اور کہا وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کی طنازی اور گرم گفتاری کے مظاہرے دیکھ چکے ہیں۔ تاہم داخلی سماجی و معاشی صورتحال اور بیرونی چیلنجوں سے نئے انداز میں نمٹنے کے عزائم و ایجنڈے سے مربوط ان کے خطاب میں ''بہ انداز دگر'' طرز عمل کا عزم شامل ہے جس میں پاکستان سمیت دیگر عالمی قوتوں کے لیے غور و فکر کے کئی زاویے موجود ہیں۔ امریکا کا افغانستان سے انخلا ایک اہم اعلان ہے مگر خطے کی حرکیات کیا رخ اختیار کرتی ہیں ان سے پاکستان الگ نہیں رہ سکتا ۔ افغانستان کی پیچیدہ صورتحال امن کی متقاضی ہے۔

ادھر کانگریس سے تناؤ کے پیش نظر صدر اوباما قانون سازی کے بغیر اقدامات پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں تاہم امریکا کی طرف سے یہ اقدام اطمینان کا باعث ہے کہ وہ افغانستان سے نکلنے کے بعد بھی پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ دیتا رہیگا۔ شاید اسی حوالے سے بعض اہم عالمی فیصلے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایران کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس پر نئی پابندیوں کا بل آیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے، مگر ساتھ ہی ایران کو بھی متنبہ کیا کہ وہ معاہدے کی پابندی کرے۔ ایران امریکا مفاہمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ یوں خارجہ، دفاعی، سفارتی اور عسکری پالیسیوں میں ایک واضح تبدیلی کا اشارہ دیا گیا ہے۔ بارک اوباما کی طرف سے گوانتامو بے جیل کو بند کرنے، صرف انٹیلی جنس اور فوجی کارروائی کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ نہ کر سکنے اور آئینی نظریات پر کاربند ہوتے ہوئے دنیا کے سامنے مثال بنانے کا استدلال پیش کرنا غیر معمولی ہے۔ یہ اعتراف در حقیقت امریکی احساس زیاں کا مظہر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میںبڑے پیمانے پر فوج بھیجنے سے امریکا کی مضبوطی کم ہوتی ہے اور شدت پسندی بڑھتی ہے۔

اس لیے ایک بار پھر امریکا کو ہر مسئلے میں ٹانگ اڑانے اور بالادستی کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی جس کے مثبت نتائج امریکا اور دنیا کے تمام ملکوں میں یکساں برآمد ہوں گے جب کہ عراق، صومالیہ، مالی اور دیگر ملکوں میں بھی امریکا کو اپنی مداخلت بند کرنی چاہیے۔ امریکی دفاعی حکام نے چین کو امریکا کی عالمی فوجی برتری کے لیے مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی بجٹ میں کمی کے باعث امریکا کو اپنی یہ برتری برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جب کہ زمینی حقائق چین کو ہوا بنانے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے، چین کی توجہ پاکستان کی طرح اپنی داخلی سلامتی، سماجی و معاشی اہداف کی تکمیل میں اشتراک عمل اور خیر سگالی پر مرکوز ہے ۔ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ اس لیے عالمی امن کے لیے ہر ملک کو عالمی اتحاد کا ایجنڈا لے کر ساتھ چلنا ہو گا۔