گلوکارمسعود رانا کواپنے پرستاروں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے

مسعود رانا نے 1965 کی جنگ سمیت بے شمار ر قومی نغمات بھی اس جوشیلے اندازمیں گائے جنہیں سن کر جوش آجاتا ہے


ویب ڈیسک October 04, 2021
ان کے گائے ہوئے گیت ندیم، محمّدعلی، وحیدمراد، شاہد، غلام محی الدین، اعجاز، حبیب، سدھیر سمیت پاکستان کے تمام بڑے اداکاروں پرفلمبند ہوئے۔

گلوکارمسعود رانا کو اپنے پرستاروں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے لیکن انکی آوازکا سحر پرستاروں پرآج بھی برقرارہے۔

دل موہ لینے والی اورفلمی گیتوں میں اپنی مخصوص آواز کا جادو جگانے والے مسعود رانا کو1962 میں فلم انقلاب میں گانے کا موقع ملا۔ 1964 میں ریلیزہونے والی فلم ڈاچی کے گیت نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

مسعود رانا نے مشہورفلموں آئینہ، دل میرا دھڑکن تیری سمیت دیگرفلموں میں آواز کا جادو جگا کر پذیرائی حاصل کی، انہوں نے اپنے 33 سالہ کیریئرکے دوران اردواورپنجابی فلموں کے لئے 550 سے زائد گیت گائے۔

ان کے گائے ہوئے گیت ندیم، محمّدعلی، وحیدمراد، شاہد، غلام محی الدین، اعجاز، حبیب، سدھیر سمیت پاکستان کے تمام بڑے اداکاروں پرفلمبند ہوئے۔

مسعود رانا نے 1965 کی جنگ سمیت بے شمارقومی نغمات بھی اس جوشیلے اندازمیں گائے جنہیں سن کرجوش آجاتا ہے۔ دنیائے موسیقی کا یہ روشن ستارہ چاراکتوبر 1995 کو غروب ہو گیا، لیکن ان کی یادوں کے چراغ شائقین موسیقی کے دلوں میں ہمیشہ جلتے رہیں گے۔