مسئلہ کشمیر کو اب حل ہوجانا چاہیے

یہ دردناک حقیقت ہے کشمیری عوام نے عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی اصولی جدوجہد جاری رکھی


Editorial February 06, 2014
یہ دردناک حقیقت ہے کشمیری عوام نے عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی اصولی جدوجہد جاری رکھی. فوٹو:فائل

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا ۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے اپنے پرانے عہد وپیماں اور قراردادوں کی روشنی میں اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن وخوشحالی ان کشمیریوں کا بھی مقدر بنے جو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے بھارتی حکمرانوں کے ظلم و ستم سہتے آرہے ہیں ۔دریں اثنا قومی اسمبلی نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور پاکستانی دریاؤں پر بھارتی ڈیموں کی تعمیر کے خلاف قراردادیں متفقہ طور پر منظورکر لیں ۔ منگل کو قومی اسمبلی میں وزیر مملکت شیخ آفتاب نے تحریک پیش کی کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی پر قرارداد لانے کے لیے پرائیویٹ ممبرڈے کے ایجنڈے کی کارروائی معطل کی جائے جس پر ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی۔ جے یوآئی کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانافضل الرحمن نے اس موقع پر قرارداد پیش کی جس میں کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جنھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ قرارداد میں ایوان کے اتفاق رائے سے جموں و کشمیر پر پاکستان کے موقف کو اصولوں پر مبنی قرار دیا گیا کہ آزادانہ، منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے مسئلہ کشمیرکا حل کشمیریوںکی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

بلاشبہ یہ تاریخ کی ستم ظریفی اور عالمی برادری کے ضمیر پر ایک تازیانہ ہے جو مسئلہ کشمیرکے حوالہ سے آزادانہ رائے شماری کے بین الاقوامی اصول اور حق کو تسلیم کرانے میں مسلسل ناکامیوں سے عبارت ہے جب کہ پاکستان کو اس مقدمہ کے منصفانہ اور آبرو مندانہ فیصلہ کے انتظار میں 66 برس کے اعصاب شکن نشیب و فراز اور بھارت کی ٹال مٹول کی حکمت عملی اور عسکری و سفارتی کہہ مکرنیوں اورجارحیت کے اذیت ناک تجربات دیکھنے پڑے ۔ مسئلہ کشمیرایک قوم کو درپیش اندوہ ناک انسانی مسئلہ ہے جس کے چار فریق یعنی پاکستان ،بھارت،کشمیری عوام اور اقوام متحدہ کو بات چیت کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کشمیر کو استصواب رائے کا کب حق دیا جائے گا اور کس طرح خطے میں امن و استحکام کی فضا قائم اور جنگ و بربادی کا باب بند کرنے کے لیے عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنی مشترکہ کوششیں بروئے کار لائیں گی ۔تقریباً سات دہائیوں پر محیط عرصہ حق خود ارادیت حاصل کرنے میں گزر گیا اور کشمیری رہنماؤں اور عوام کو ماسوائے اخباری بیانات، پاک بھارت صدور ، وزرائے اعظم اور خارجہ سیکریٹریز کی سطح پر اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے جمع شدہ تاریخی ریکارڈ کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

یہ دردناک حقیقت ہے کشمیری عوام نے عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی اصولی جدوجہد جاری رکھی اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کے بہیمانہ مظالم پر مبنی کارروائیوں کے باوجود قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھااور جب انھیں یقین ہونے لگا کہ ان کے جائز موقف اور حق خود ارادیت کے لیے عالمی برادری کسی ٹھوس روڈ میپ اور قراردادوں کی روشنی میں سٹیک ہولڈرز کو پہلو بہ پہلو رکھتے ہوئے کسی اقدام کے اعلان میں مخلص نہیں تو انھوں نے تنگ آمد بہ جنگ آمدکے مصداق مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔

قومی اسمبلی نے در حقیقت کشمیری عوام کی اسی تاریخی اور اصولی جدوجہد کے تناظر میں پاکستان کی طرف سے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے کا اعادہ کیا ۔ قرارداد میں ایک بار پھر بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جموں وکشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے ۔بھارت متنازعہ علاقوں کی شہری آبادی سے فوج کا انخلا کرے۔ گمنام قبروں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے ۔ سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں رائج سخت گیر قوانین منسوخ کیے جائیں اور بھارت پاکستان کے ساتھ بامعنی نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔یہ بات اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ مسئلہ کشمیر خود بھارت سلامتی کونسل میں لے کر گیا اور اس نے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے اور وادی میں آزادانہ رائے شماری کا وعدہ کیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جون 1947ء میں تقسیم ہند کے طے پانے والے معاہدے کے تحت مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل ہونا تھے،تقسیم کے وقت پیدا ہونے والی ہنگامہ خیز صورتحال میں کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ بھارت یا برطانوی استعمارجموں و کشمیر کے حوالہ سے کوئی چال چلنے والے ہیں جس کے تحت کشمیریوں کی خواہشات کے بر خلاف فیصلہ ہوگا ، چنانچہ جون 1947ء میں تقسیم کے اعلان کے چند ماہ بعد ہی بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کردیں جس کے رد عمل میں جہاد کا اعلان ہوا اور بھارت نے سلامتی کونسل سے رجوع کرنے میں دیر نہیں لگائی۔

اقوام متحدہ کا ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بھارت ہی سلامتی کونسل میں گیا اور بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرواور دیگر حکام نے وہاں یہ وعدہ کیا کہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا لیکن آج بھی دنیا بھارت پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنے کمٹمنٹ پر پورا اترے مگر کیا مجال کہ بھارتی چانکیائی سیاست و سفارت مسئلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس پیش رفت دکھائے۔ بس فرضی کہانیوں ، اٹوٹ انگ ، سفارت کارانہ ہنر مندیوں اور تردید وتوضیحات کا ایک گورکھ دھندا جمع کر رکھا ہے جس نے پاک بھارت تعلقات کو ایک بند گلی میں پہنچا دیا ہے جس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حقیقی سٹیک ہولڈرزکے ساتھ ان ہی ''مردہ یا زندہ'' قراردادوں کی روشنی میں آگے بڑھے، عالمی برادری احساس زیاں کا اظہار کرتے ہوئے اہل کشمیر کے تالیف قلوب کا اہتمام کرے ، تاکہ ثالثی نتیجہ خیز ہو یا گریٹر کشمیر ڈائیلاگ کے نام پر مسئلہ کے حل کی جانب ایک غیر معمولی پیش قدمی نظر آئے ۔

بھارتی حکام گزشتہ دنوں یہ اعتراف کرچکے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونا خود بھارت کے مفاد میں ہے۔ اب سب کا مفاد اسی میں ہے کہ جنوبی ایشیا بشمول برصغیر کو جنگ کے خطرات سے نجات دلائی جائے، مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہو، خطے کے عوام کو غربت ، بیماری، پسماندگی،خانماں بربادی اور غیر انسانی صورتحال سے نکال کر آبرومندانہ طریقے سے جینے کا حق دیا جائے ۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری کے پہلو بہ پہلو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کا راگ الاپنے کے بجائے بھارت حقیقی معنوں میں مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کی طر ف فیصلہ کن پیش قدمی کرے جو خطے کے مفاد میں ہے۔