خطے میں امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے

اگر مسئلہ کشمیر خوش اسلوبی سے حل کر لیا جاتا تو اس خطے میں مدت پہلے امن قائم ہو چکا ہوتا


Editorial February 07, 2014
اگر مسئلہ کشمیر خوش اسلوبی سے حل کر لیا جاتا تو اس خطے میں مدت پہلے امن قائم ہو چکا ہوتا۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بھارت کو ایک بار پھر مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کے حوالے سے ہر تجویز زیر غور لانے کے لیے تیار ہیں' وزیر اعظم یوم یک جہتیٔ کشمیر پر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

مسئلہ کشمیر گزشتہ چھیاسٹھ سال سے پاکستان اور بھارت کے درمیان وجہ تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے دونوں ممالک نے جنگیں لڑیں مگر پھر انھیں احساس ہو گیا کہ جنگ سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ لہٰذا دونوں نے مذاکرات کی میز پر اسے حل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ متعدد بار پاک بھارت اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے مگر نتیجہ خیز نہ ہو سکے اور مسئلہ کشمیر جوں کا توں چلا آ رہا ہے۔اگر یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کر لیا جاتا تو اس خطے میں مدت پہلے امن قائم ہو چکا ہوتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے لیے آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی ضد اورہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ مسئلہ اب تک طے نہیں ہو سکا۔اس دوران کشمیر کے عوام اپنے حق کے لیے جدوجہد کرتے آ رہے ہیں۔اقوام متحدہ بھی ان کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت نہ کرتا ہو لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی سفارتی حمایت کی ہے اور وہ اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے۔ اگرچہ پاکستانی حکمران ہر موقع پر یہ یقین دلاتے چلے آرہے ہیں کہ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی' تنازع کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے مطابق حل کیا جائے گا۔

بھارت نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے چھ لاکھ سے زائد فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل کر رکھی ہے مگر بھارت آج تک ہر ظلم و جبر آزمانے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکا۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اتنی قربانیاں دینے کے باوجود کشمیریوں کو اب تک آزادی کی صورت میں صلہ نہیں ملا اور مستقبل قریب میں بھی بھارت کی جانب سے یا عالمی سطح پر ایسی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی کہ جس سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی فوری امید بندھے۔ اگرچہ امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جا سکتا کیوں کہ مسئلہ کشمیر ایک عالمی ایشو بن چکا ہے اور لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ حریت بھی ماند نہیں پڑا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس لیے بھارت کے لیے کشمیریوں کو دبانا زیادہ عرصہ تک ممکن نہیں' کشمیریوں کو کب آزادی ملتی ہے اس وقت کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا مگر موجودہ حکومت بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم اور مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے جس انداز میں سرگرم ہے اس سے یہ امید بندھتی ہے کہ بھارت خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کو مثبت جواب ضرور دے گا۔ چونکہ اب عالمی سطح پر بھی بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں' جنھیں نظر انداز کرنا بھارت کے لیے ممکن نہیں۔

اپنی تجارت کو فروغ دینا اور افغانستان کو اپنی منڈی بنانا بھارت کی معاشی ترقی کی ترجیحات میں شامل ہے، پھر اپنی صنعتی ترقی کے لیے توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہ پاکستان کے راستے ایران سے گیس حاصل کرنے کا بھی خواہشمند ہے۔ لہذا بھارتی حکمران بھی یہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان سے بہتر تعلقات ان کے بھی مفاد میں ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بالکل صائب کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر پرامن طور پر حل نہیں ہو گا خطے میں کشمکش اور بے یقینی کی فضا برقرار رہے گی' مسئلہ کشمیر کے حل سے خطے میں امن قائم ہو گا' ترقی اور خوشحالی آئے گی۔ موجودہ حکومت کی بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہ اعتراض کیا گیا کہ پہلے مسئلہ کشمیر حل کیا جائے۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کشمیریوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت مسئلہ کشمیر کے اصولی موقف پر قائم ہے' ان کی سیاسی' سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی' مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر پوری دنیا کو تشویش ہے۔

علاوہ ازیں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف' پاکستان اور دنیا بھر میں روایتی جوش و خروش سے منایا گیا۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے جلوس و ریلیاں نکالی گئیں' انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی اور مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ بھارت اور پاکستان ایٹمی اور میزائل قوت بن چکے ہیں' دونوں کے پاس انتہائی مہلک ہتھیار ہیں جو پلک جھپکنے میں شہروں کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں اگر دونوں جانب سے ان ہتھیاروں کا استعمال ہو گیا تو پھر نہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ مفتوح، بس ہر طرف تباہی و بربادی ہی ہو گی۔ اس حقیقت کا دونوں ممالک کی حکومتوں کو ادراک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک نے قیام امن کے لیے ہونے والے باہمی مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہونے کے باوجود ان کا سلسلہ کبھی مکمل منقطع نہیں کیا بلکہ اسے جاری رکھنے کا ہمیشہ عندیہ دیا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بھی واضح کیا ہے کہ ''ہم اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں' آئیے نئے دور کا آغاز کریں''۔ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر سمیت اپنے تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد حل کرنے چاہیئں کیونکہ ان مسائل کے حل میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی اس کے مضر اثرات سے بلا واسطہ یا بالواسطہ دونوں ممالک متاثر ہوتے رہیں گے۔ پاکستان میں انتہا پسندی کے فروغ میں مسئلہ کشمیر بھی ایک اہم عنصر ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارتی ہٹ دھرمی ہمیشہ آڑے آتی رہی ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بھارت کشمیر سے آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ لہٰذا یہ وقت کا بھی تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر جلد از جلد حل کیا جائے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے تو خطے میں قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے ساتھ ہر تجویز پر غور کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اب بھارتی حکمرانوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اسی میں پورے خطے کی بقا کا انحصار ہے۔