یوٹیلٹی اسٹورز پر سستی ادویات کی تجویز

یوٹیلٹی اسٹورز میں فارمیسی قائم کر کے غریب عوام کو 25 فیصد رعایت پر ادویات فراہم کی جائیں


Editorial February 08, 2014
یوٹیلٹی اسٹورز میں فارمیسی قائم کر کے غریب عوام کو 25 فیصد رعایت پر ادویات فراہم کی جائیں. فائل فوٹو

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کے دوران محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالنے نہیں دیں گے، یوٹیلٹی اسٹورز میں فارمیسی قائم کر کے غریب عوام کو 25 فیصد رعایت پر ادویات فراہم کی جائیں جب کہ سستے گوشت کی فروخت کا انتظام بھی کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی یہ تجاویز یقیناً عوام کے لیے بہت مفید ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان تجاویز پر عمل درآمد کیسے ہو گا۔ جہاں تک لوگوں کو پچیس فیصد رعائتی قیمت پر ادویات فراہم کرنے کا تعلق ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارے پڑوسی ملک میں ادویات کی قیمت ہمارے ملک کی نسبت کئی گنا کم ہے جب کہ ہماری مہنگی دواؤں میں مبینہ طور پر ذمے دار سرکاری عہدے داروں اور ان کے افسران بالا کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔

لہٰذا سوال یہ ہے کہ سینیٹ کمیٹی کی تجاویز پر عمل کیسے ہو گا' کیا حکومت اس تجویز کو منظور کرے گی۔ اصولی طور پر تو پاکستان کے عوام کو سستی ادویات ملنی چاہئیں لیکن یہ بھی سوال ہے کہ کیا چھوٹے شہروں اور قصبوں کے عوام کو یوٹیلٹی اسٹورز کی سہولت میسر ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں صرف 6 ہزار کے قریب یوٹیلٹی اسٹور ہیں۔ حکومت جو سبسڈی دے گی' کیاوہ دوبارہ عوام پر نہیں آئے گی تاہم اگر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی تجویز کی روشنی میں حکومت کوئی موثر لائحۂ عمل تیار کر لیتی ہے تو لوگوں کو سستی دوائیں ملنا شروع ہو سکتی ہیں۔ سینیٹ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ جن سرکاری اداروں کی نج کاری کی جائے گی اس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس ادارے کے ملازمین کی ملازمتوں پر کوئی منفی اثر مرتب نہ ہو تاہم اس کے ساتھ ہی سینیٹ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ ماضی میں سرکاری اداروں میں میرٹ سے ہٹ کر کی جانے والی بھرتیوں کی وجہ سے یہ ادارے نقصان اور بحران کا شکار ہوئے ہیں تو ایسی صورت میں نجکاری کے بعد ملازمین کی ملازمتوں کے برقرار رہنے کی ضمانت کس طرح دی جا سکے گی۔