یہ انداز ِحکمرانی
غلطی صرف ایک بار ہوتی اگر اسے بار بار دُہرایا جائے تو اسے حماقت کہا جاتا ہے
February 12, 2014
لاہور:
جمہوری روایات اور قانون کی حکمرانی کا سنہرا خواب، حقائق کی کڑی دھوپ میں خواب پریشان بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ (PCB) کے چیئرمین ذکاء اشرف کی عدالتی بحالی کے بعد اچانک برطرفی نے پارلیمانی جمہوری نظام کو لاحق خدشات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت پانچ خود مختار اداروں کے سربراہوں کے خلاف عدالتی جنگ میں مصروف ہے جن میں سے چار کی برطرفی کو عدالت خلاف قانون قرار دے چکی ہے لیکن وزیر اعظم کے دفتر (PMO) میں براجمان بعض نادان دوست افسر عدالتی فیصلوں کوخوش دلی تسلیم کرنے کے بجائے محاذ آرائی پر تلے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں جناب نواز شریف سے ہمدردی رکھنے والے پاکستان کے خیر خواہ بھی یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ سابق چیئرمین نادرا طارق ملک، چیئرمین پیمرا رشید چوہدری، اے جی پی آر طاہر محمود، چیئرمین اوگرا سعید خان جیسے افسران سب غلط ہیں یکسر غلط ہیں یا پھر اعلی ترین سطح پر حکومتی فیصلہ سازی کے عمل میں کسی جگہ کوئی سنگین خرابی پیدا ہو چکی ہے جسے فوری درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عدالت ان کے حق میں فیصلے کیوں دے رہی ہے۔ اب ذکا اشرف کی برطرفی نے محاذ آرائی کا نیاباب کھول دیا ہے جس سے حکومت کی 'نیک نامی' میں مزید اضافہ ہو گا۔
کرکٹ کی اربوں ڈالر مالیت کی مارکیٹ پر قبضہ کرنے کے لیے ''بگ تھری'' کے نام پر آسٹریلیا، برطانیہ اور بھارت نے ویٹو کے اختیارات حاصل کر لیے ہیں کہ جنوبی افریقہ نے آخری لمحے میں کرکٹ پر اجارہ داری قائم کرنے کے کھیل میں 'تین بڑوں' کاساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پاکستان دنیائے کرکٹ میں اہم فریق ہے لیکن وزیر اعظم نواز شریف اپنی گوناں گوں مصروفیات میں سے چند لمحے چیئرمین ذکاء اشرف کے لیے نہ نکال سکے کہ سنگاپور جانے سے پہلے ان کے ساتھ مشاورت کر لیتے جس پر کرکٹ کے پرستاروں کو حیرت ہو رہی تھی کیونکہ وزیر اعظم خود بھی اچھے کھلاڑی رہے ہیں، یہ عقدہ ذکا اشرف کی برطرفی سے حل ہوا کہ وزیر اعظم تو انھیں گھر بھجوانے کا فیصلہ کر چکے تھے، اس لیے ملاقات کیوں کرتے؟
ذکا اشرف کی بحالی کے بعد حکومت نے فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے عاصمہ جہانگیر کو وکیل مقرر کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا جس پر کرکٹ کے پرستاروں نے سکھ کا سانس لیا کہ اس کھیل کو سیاست گری اور قانونی جنگ سے بچانے کے لیے حکومت نے صائب اقدام کیا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ یہ تو صرف وقت حاصل کرنے کی 'جنگی حکمت عملی' کا حربہ تھا گزشتہ شام اچانک ذکا اشرف کو توہین آمیز طریقے سے برطرف کر کے عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی 'نئی روایات' قائم کی گئی ہیں۔
کرکٹ کے تنازعے نے صحافی اخلاقیات پر نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ کیا نجم سیٹھی سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ قوم کو رات گئے اپنے غیر جانبدارانہ تجزیوں اور تبصروں سے مستفید کرتے رہیں گے؟ اُستاد گرامی پروفیسر عرفان صدیقی کے روشن نقش ان کے لیے مشعل راہ ہونے چاہئیں۔ یہ تو روایت پسند پروفیسر عرفان صدیقی ہیں کہ انھوں نے وزیر اعظم کے مشیر خصوصی کا منصب سنبھالتے ہی تجزیہ نگاری کو خدا حافظ کہہ دیا کہ حرمت قلم کی روایات کا تقاضا یہی تھا۔ کیا نجم سیٹھی ایسا کر پائیں گے؟ یہ وہی عرفان صدیقی ہیں جو پیچیدہ اور مشکل حالات میں پاکستان کو اندرونی جنگ سے بچانے کے لیے امن کی روشن راہ تراش رہے ہیں۔
عام انتخابات میں مسلم لیگ کی فتح پر ساری قوم نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ یہ جناب نواز شریف تھے جنہوں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کر کے جناب آصف علی زرداری کو مجبور کر دیا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی سپریم کورٹ کے تمام حریت پسند اور آزاد منش ججوں کو واپس لائیں لیکن اقتدار کے رنگ نرالے ہوتے ہیں آج نواز شریف حکومت ہر معاملے میں سیاسی حریفوں کے بجائے عدالتوں سے الجھی ہوئی ہے جس کا آغاز نادرا کے چیئرمین طارق ملک کی برطرفی سے ہوا تھا۔ پروفیسر فتح محمد ملک کے خاندان سے کئی دہائیوں پر پھیلی نیازمندی اور ان کے صاحبزادے طاہر ملک سے دوستی کے ناتے یہ کالم نگار اس تنازعے کی گفتنی ناگفتنی تفصیلات سے بخوبی آگاہ ہے، آفرین ہے طارق ملک پر جوتمام تر ریاستی دباؤ کے باوجود سرنگوں ہونے پر آمادہ نہیں تھے لیکن اپنے ایک محترم اُستاد کے اشارے پر مستعفی ہو گئے اور اس معاملے میں اپنی اناکو بھی حائل نہ ہونے دیا۔
سیانے کہتے ہیں کہ غلطی صرف ایک بار ہوتی اگر اسے بار بار دُہرایا جائے تو اسے حماقت کہا جاتا ہے۔ چیرمین نادرا کامعاملہ ابھی چل رہا تھا کہ اگلا نشانہ چیئرمین پیمرا رشید چوہدری کو بنایا گیا۔ انھیں بھی اچانک برطرف کر دیاگیا' جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحال کر دیا تو یہ حکم تسلیم کرنے کے بجائے رشید چوہدری کو اپنے دفترمیں داخل ہونے سے روکا گیا۔ بعد از خرابی بسیار جب وہ عدالتی چارہ جوئی کر کے دفتر پہنچ گئے تو ان کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے انکوائریوں کا سلسلہ شروع ہے۔ چند دن پہلے شو کاز نوٹس وصول کرانے کے لیے اسلام آباد پولیس نے آدھی رات کو ان کا گھر بھی گھیرے میں لے لیا جس کا واحد مقصد اہل خانہ کو ہراساں کر کے ان پر دباؤ بڑھانا تھا۔ اظہار وجوہ کا نوٹس پولیس کے ذریعے آدھی رات کوبھجوانا ماورائے عقل و فہم اقدام ہے۔ ایک بھری مجلس میں معروف کالم نگار اور نیشنل پریس کلب کے سیکریٹر ی جنرل طارق چوہدری نے وزیر اطلاعات برادرم پرویز رشید کی توجہ رشید چوہدری کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے اور آدھی رات کو اسلام آباد پولیس کے چھاپہ پر دلوائی تو انھیں کچھ علم نہیں تھا اجلے کردار کے مالک پرویز رشید سے زیادہ ریاستی ہتھکنڈوں سے کون آگاہ ہو سکتا ہے جنھیں لاہور کے تھانہ سرور روڈ میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اس کالم نگار کو ذاتی دکھ تو اس بات کاہے کہ وزیر داخلہ نثارعلی خاں کے ہوتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد پولیس سینئر سرکاری افسروں کے گھروں پر چڑھائی کر رہی ہے تو پھر بے بس، بے کس اور بے نوا انسانوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان (AGPR) طاہر محمود بھی برطرفی کے بعد عدالت کے حکم پر بحال ہوئے ہیں' کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ایک ایمرجنسی اکاؤنٹ کھولنے سے انکار کر دیا تھا کہ قواعد و ضوابط میں اس کی گنجائش نہیں تھی۔ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کے دفترمیں ایسے نابعہ روزگارمشیروں کا قبضہ ہے جو قواعد و ضوابط کو موم کی ناک کی طرح اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ اب پٹرول اور تیل کی قیمتوں کوکنٹرول کرنے والے ادارے (OGRA) کے سربراہ کو ہدف بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے' وزیر اعظم کے اردگرد موجود یہ نادان دوست پاکستان کوکس راہ پر ڈال رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو نادان دوستوں کے محاصرے سے نکالنا جناب عرفان صدیقی کے لیے کڑا امتحان ہو گا کہ وزیر اعظم کا مشیر خصوصی برائے قومی امور ہونے کی وجہ سے ایسے تمام نا روا اقدامات کی ذمے داری سے وہ پہلو تہی نہیں کر سکیں گے لیکن جناب عرفان صدیقی نے طالبان سے آمادہ جنگ ایسے نادان دوستوں کی موجودگی میں وزیر اعظم نواز شریف کو جس طرح امن کی راہ اپنانے پر آمادہ کیا ہے اس کی روشنی میں توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسے بچگانہ اقدامات کی راہ روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
حرف آخر ذکر ہے گوجرانوالہ کا، جہاں خرم دستگیر خاں کے وزیر تجارت بننے کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کے ملزمان کی گرفتاری پر دو سینئر پولیس افسروں کے راتوں رات تبادلے پر قارئین نے متنوع اور شدید ردعمل ظاہر کیا ہے ایک بزرگ دوست نے بعض تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بزرگ سیاستدان خان غلام دستگیر خان مادر ملت فاطمہ جناحؒ کے خلاف ایوب کی کنونشن لیگ میں شامل تھے۔ انھیں بتایا گیا کہ آپ آدھا سچ بیان کر رہے ہیں۔ مادرملت فاطمہ جناح کے خلاف ایوب خاں کی صدارتی مہم کے انچارج کنونشن لیگ کے سیکریٹری جنرل جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے جو ایوب خان کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے تو انھوں نے فون بند کر دیا۔