کمانڈوز پرحملہ واچ ٹاورز پر موجود اہلکاروں نے غفلت کی

دہشت گرد ٹریننگ سینٹر پر حملہ کرنا چاہتے تھے، سیکیورٹی نے حکمت عملی بدلنے پرمجبورکردیا


Staff Reporter February 15, 2014
کافی دیر سے کھڑی گاڑی چیک کرلی جاتی تو حادثے سے بچائویازیادہ جانی نقصان نہیں ہوتا، ذرائع۔ فوٹو: راشد اجمیری/ایکسپریس/فائل

دہشت گرد رزاق آباد ٹریننگ سینٹر پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن سخت حفاظتی انتظامات کے باعث انھیں موقع نہیں مل سکا جس پر انھوں نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بس کونشانہ بنایا۔

اس بات کا انکشاف نیشنل ہائی وے پر پولیس اہلکاروں کی بس کو نشانہ بنانے کی تفتیش کے دوران ہوا۔ ذرائع نے ایکسپریس کو بتایاکہ کچھ عرصے قبل شہرمیں قائم پولیس کے متعدد ہیڈ کوارٹرز پرحملے کا خدشہ ظاہرکیاگیا تھا جس کے بعد حسن اسکوائر پر واقع ایسٹ ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ساتھ اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) پر بھی سیکیورٹی بڑھادی گئی تھی، اسی ضمن میں ایس ایس یو کے سربراہ ایس پی مقصود میمن نے بطور پرنسپل رزاق آباد ٹریننگ سینٹر پر بھی حفاظتی انتظامات بڑھادیے اور اضافی نفری تعینات کردی تھی۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ٹریننگ سینٹرکی مسلسل ریکی کررہے تھے اور حفاظتی انتظامات میں غیر معمولی اضافہ دیکھتے ہوئے انھیں سینٹر پر حملے یعنی اپنا ہدف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا، دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور سینٹر سے روزانہ روانہ ہونے والی پولیس اہلکاروں کی بس کو نشانہ بنایا، دہشت گردوں کی دوسری حکمت عملی کامیاب ہوگئی لیکن اس میں بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی غفلت شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رزاق آباد ٹریننگ سینٹر کے باہر اور اس کی بائونڈری وال کے ساتھ قائم واچ ٹاورز پر تعینات اہلکاروں نے مرکزی سڑک پر کھڑی گاڑی پر کوئی توجہ نہیں دی، اگر وہ وہاں کافی دیر سے کھڑی گاڑی پر کوئی توجہ دیتے یا اسے چیک کرلیا جاتا تو حادثے سے بچائوممکن تھایاکم از کم اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان نہیں ہوتا۔