معین سے مختصر مدت کے معاہدے پر انگلیاں اٹھنا شروع

2 ماہ دینا مذاق ہے، کون سا کوچ اتنے کم وقت میں تبدیلی لے آئے گا؟ وسیم اکرم


Sports Desk February 16, 2014
2 ماہ دینا مذاق ہے، کون سا کوچ اتنے کم وقت میں تبدیلی لے آئے گا؟ وسیم اکرم۔ فوٹو: فائل

معین خان کے بطور کوچ صرف2ماہ کے تقرر پر انگلیاں اٹھنا شروع ہوگئیں، وسیم اکرم نے بھی سابق وکٹ کیپر بیٹسمین کو انتہائی کم وقت دینے کو مذاق قرار دے دیا۔

انھوں نے کہا کہ غیرملکیوں کے لیے 2 برس کے معاہدے اور ملکی کوچ کو صرف 2 ماہ کا وقت دینا ناانصافی ہے، ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے بعد اگر قومی ٹیم کی مصروفیت نہیں تھی تو پھر معین شہر شہر گھوم کر نیا ٹیلنٹ تلاش کرسکتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق جس دن پی سی بی نے بولنگ کوچ محمد اکرم کے معاہدے میں 2 برس کی توسیع کرنے کا اعلان کیا، اسی روز معین خان کو صرف دو ماہ کے لیے ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا، کوچ ہنٹ کمیٹی کے رکن وسیم اکرم نے بھی اسے مذاق قرار دے دیا۔

ایک خلیجی اخبار کو انٹرویو میں انھوں نے کہاکہ مجھے یہ سن کر کافی حیرت ہوئی کہ معین خان کو ہیڈ کوچ کے عہدے کیلیے صرف 2ماہ کے معاہدے کی پیشکش کی گئی ہے، آپ غیرملکی کوچ کو تو 2 برس کے لیے کنٹریکٹ دیتے ہیں، جب معاملہ مقامی آفیشل کا ہو تو صرف دو ماہ کا معاہدہ تھما دیا گیا، یہ کسی طور پر اچھی بات نہیں ہے، کون سا کوچ اتنے کم وقت میں تبدیلی لے آئے گا، بورڈ کی یہ انتہائی غلط سوچ ہے۔ وسیم اکرم نے مزید کہا کہ پی سی بی کی طرف سے دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ آگے قومی ٹیم 5 ماہ تک فارغ ہوگی اس لیے کوچ کی ضرورت نہیں جبکہ معین خان اس عرصے میں اپنے پلیئرز کو اچھی طرح جانچ سکتے ہیں ، وہ مختلف شہروں میں جاکر فرسٹ کلاس میچ دیکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ چیئرمین نجم سیٹھی نے اپنے گذشتہ مختصر دور میں معین خان کو پہلے چیف سلیکٹر بنانا چاہا تھا مگر عدالت کی جانب سے بڑے فیصلے کرنے کا اختیار نہ دیے جانے پر ٹیم منیجر بنادیا، ذکا اشرف نے بحال ہوتے ہی انھیں اس ذمہ داری سے فارغ کردیا تھا۔ اب دوبارہ بورڈ میں آنے کے بعدنجم سیٹھی نے معین کو ہیڈ کوچ کی مختصر مدت کیلیے ذمہ داری سونپی ہے۔