لاہور کینٹ سے حساس ادارے کے اہلکار کی ٹکڑوں میں لاش برآمد

ملزمان کی نشاہدہی پر مقتول کی نعش کے کچھ ٹکڑے کینٹ نشاط کالونی گندہ نالہ سے برآمد ہوئے، باقی اعضا کی تلاش جاری ہے


Numainda Express February 21, 2022
ملزمان کی نشاہدہی پر مقتول کی نعش کے کچھ ٹکڑے کینٹ نشاط کالونی گندہ نالہ سے برآمد ہوئے، باقی اعضا کی تلاش جاری ہے- فوٹو:فائل

ISLAMABAD: مزنگ سے سات روز قبل اغوا ہونیوالا حساس ادارے کا اہلکار دوسرے حساس ادارے کے اہلکار کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔

گلگت کا رہائشی علی یار کراچی کے حساس ادارے میں بطور سپاہی ملازم تھا اور چھٹیوں میں لاہور آیا ہوا تھا۔ 13 فروری کو اس نے کراچی ملازمت پر واپس جانا تھا لیکن وہ لاپتہ ہوگیا اسکے بھائی اسرار احمد نے 17 فروری کو مزنگ تھانہ میں مقدمہ درج کرایا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اغوا کے شبہ میں پولیس نے اس کے کزن رحیم اللہ کو جو ایک دوسرے حساس ادارے میں ملازم ہے کو شامل تفتیش کیا۔

دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ رحیم اللہ کے تین بردار نسبتی نے علی یار کو اغوا کرکے قتل کیا اور لاش کے ٹکرے کرکے گندہ نالہ میں پھینک دئیے جہاں گزشتہ روز ملزمان کی نشاہدہی پر مقتول کا بازو اور ٹانگ گندہ نالہ سے برآمد ہوئے، باقی اعضا کی تلاش جاری ہے۔

مقبول خبریں