سندھ کے سرکاری اسپتالوں کو زکوٰۃ فنڈ سے5050لاکھ دینے کا فیصلہ

25لاکھ کی پہلی قسط جاری،حکومت مستحق مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے کوشاں ہے، قربان علوی


Numainda Express February 22, 2014
25لاکھ کی پہلی قسط جاری،حکومت مستحق مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے کوشاں ہے، قربان علوی۔ فوٹو: فائل

سندھ زکوٰۃ کونسل کے چیئرمین جسٹس ( ریٹائرڈ ) زاہد قربان علوی نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتالوں کو زکوٰۃ فنڈ سے غریب اور مستحق مریضوں کے علاج کیلیے پچاس پچاس لاکھ کے فنڈ دیے جارہے ہیں ۔

جس کی پہلی قسط کے طور پر تمام اسپتالوں کو پچیس پچیس لاکھ فراہم کر دیے گئے ہیں جب کہ دوسری قسط بھی جلد جاری کر دی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ایس سول اسپتال حیدرآباد کے دفتر میں4مستحق مریضوں و معذورین میں وہیل چیئرز اور پانچ، پانچ ہزار کے امدادی چیک تقسیم کرنے کے موقع پر کیا۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی ہدایت پر سول اسپتال کا دورہ کیا جس دوران معذورین کو وہیل چیئرز اور امدادی چیک دیے۔ زاہد قربان علوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سے سفارش کی گئی ہے کہ سندھ کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتالوں کو مزید فنڈ فراہم کیے جائیں تاکہ غریب اور مستحق افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں مہیاکی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کئی فلاحی تنظیمیں اور ادارے غریبوں کو مالی امداد اور علاج کی سہولتیں مہیاکر رہے ہیں جب کہ اندرون سندھ اس چیز کا فقدان ہے لہٰذا زکوٰۃ فنڈ بڑھا کر اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لیے تمام سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کونسل کے چیئرمین شیر محمد پیرزادہ نے بتایا کہ جو مستحقین زکوٰۃ کمیٹیوں کے پاس رجسٹرڈ ہیں انہیں ابھی 6 ہزار روپے زکوٰۃ دی جارہی ہے، مستحق طلبہ کو مورا اسکالر شپ کے علاوہ ضلع حیدرآباد کے 2 ہزار طالب علموں کو اسکول بیگس کی فراہمی اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ لمس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد شیخ نے کہا کہ سول اسپتال سندھ کا کراچی کے بعد سب سے بڑا اسپتال ہے جہاں پر نہ صرف سندھ بلکہ بلوچستان کے کچھ علاقوں کے مریض بھی علاج کے لیے آتے ہیں۔