ریونیو میں کمی سندھ کی 28 شوگر ملز میں ٹیکس اہلکار تعینات

ایل ٹی یو کراچی کواب تک تقریباً 70 ارب روپے مالیت کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، ذرائع


Ehtisham Mufti March 03, 2014
ملز مالکان نے چینی کے کم نرخ کو وجہ قراردیدیا، ریفنڈکلیمز وصولیوں سے زیادہ ہونے پر حکام کو بے قاعدگیوں کا شبہ، بینکوں سے بھی ٹیکس کم ملا،شارٹ فال زیادہ ہوگا،ذرائع. فوٹو: فائل

بڑے صنعتی شعبوں کی جانب سے ریونیو کی وصولیوں کا حجم کم ہونے کے سبب لارج ٹیکس پیرزیونٹ (ایل ٹی یو) کراچی کو رواں مالی سال مقررہ ہدف سے 150ارب روپے مالیت کے ریونیو شارٹ فال کا خدشہ ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایل ٹی یو کراچی کواب تک تقریباً 70 ارب روپے مالیت کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ صرف شوگر انڈسٹری سے 27 کروڑ روپے مالیت کا کم ریونیو ملا جبکہ مالی سال2012-13 کے دوران ایل ٹی یو کراچی نے صرف شوگرانڈسٹری سے مجموعی طور پر1ارب روپے مالیت کا ریونیو وصول کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ شوگرانڈسٹری کی جانب سے ریونیو کی وصولیوں کا حجم کم ہونے کے باعث ایل ٹی یو کراچی نے سیلز ٹیکس ایکٹ مجریہ1990 کے سیکشن40B کے تحت سندھ کی28 شوگر ملوں پر اپنے ٹیکس اہلکارتعینات کردیے جنہیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شوگرملوں کی پیداواری اعدادوشمار کی سخت جانچ پڑتال کریں اور یومیہ بنیادوں پرچینی کی پیداواری رپورٹ ایل ٹی یو کے متعلقہ ذمے دار افسر کو فراہم کریں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایل ٹی یو حکام نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شوگر ملیں اپنی پیداوار اور فروخت کے اعدادوشمارمیں مبینہ طورپر بے قاعدگیاں کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ایل ٹی یو کو اس شعبے کی جانب سے ریونیو کی وصولیوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

دوسری جانب شوگرملزمالکان کا موقف ہے کہ ان کے شعبے سے ریونیو کے حجم میں کمی کی بنیادی وجہ چینی کی قیمتوں میںکمی ہے۔ گزشتہ سال فی کلوگرام چینی کی قیمت80 روپے تھی جو اب گھٹ کر55 روپے کی سطح پر آگئی ہے جس کی وجہ سے سیلزٹیکس کی ادائیگیاں بھی گھٹ گئی ہیں جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ مالی سال 2011-12 میں بھی مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت بلند ترین سطح پر تھی لیکن اس وقت بھی شوگر ملوں نے اپنے حسابات میں نقصانات ظاہر کیے تھے جس سے اس شک کو تقویت مل رہی ہے کہ رواں سال شوگر انڈسٹری اپنی حقیقی پیداوار ظاہر نہ کرتے ہوئے کم ریونیو جمع کرارہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال میں اب ایل ٹی یو کراچی کو شوگر انڈسٹری کی جانب سے مجموعی طور پر35 کروڑ روپے مالیت کا ریونیو وصول ہوا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اس شعبے کی جانب سے ایل ٹی یو کراچی میں اسی مدت کے55 کروڑ روپے مالیت کے سیلزٹیکس ریفنڈکلیمز داخل کرائے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایل ٹی یو کراچی کو شوگر انڈسٹری کے علاوہ بینکنگ سیکٹر سے بھی ودہولڈنگ ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 25 تا30 فیصد ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں