صدر انگریزی زبان سے مرعوب نکلے جامعہ اردو کے اجلاس کی کارروائی انگریزی میں طلب

جامعہ کی جانب سے سینیٹ کے اجلاس کی اردو میں لکھی روداد ایک بار پھر انگریزی میں تحریرکی گئی۔


Safdar Rizvi March 05, 2014
صدرنے سینیٹ کے اجلاس میں گریڈ 20 کے اساتذہ کو ایسوسی ایٹ پروفیسر کا درجہ دینے کا معاملہ موخر کردیا، جامعہ اردو کے حیدرآباد کیمپس کا کام شروع کرنیکی ہدایت۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

وفاقی جامعہ اردو کے چانسلر اور صدرمملکت ممنون حسین کا ملک کی بیوروکریسی کی طرح قومی زبان کے بجائے انگریزی زبان سے مرعوب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے وفاقی جامعہ اردو کی جانب سے یونیورسٹی کے فیصلہ ساز ادارے ''سینیٹ'' کے منعقدہ اجلاس کی اردوزبان میں بھجوائی گئی روداد جامعہ کوواپس کردی ، صدرمملکت کے دفترکی جانب سے جامعہ کی سینیٹ کے اجلاس کی روداد قومی زبان کے بجائے انگریزی زبان میں بھجوانے کی ہدایت کی گئی جس کے بعد جامعہ کی جانب سے سینیٹ کے اجلاس کی روداد ایک بار پھر انگریزی زبان میں تحریرکی گئی اور اسے منظوری کے لیے ایوان صدربھجوایاگیا اورجامعہ کے چانسلرصدرمملکت ممنون حسین نے جامعہ کی جانب سے انگریزی زبان میں دوبارہ تحریرکی گئی رودادکی منظوری دی ،یاد رہے کہ اس اجلاس کی صدارت بھی، جامعہ کے چانسلر صدر مملکت نے خود کی تھی اور جامعہ کی 10 برس کی تاریخ میں یہ پہلاموقع تھاجب جامعہ کے چانسلراز خود اجلاس میں شریک ہوئے تھے، واضح رہے کہ جامعہ اردوکے تمام دفتری امور اردو زبان میں ہی انجام پاتے ہیں ، جامعہ کے موجود وائس چانسلر پروفیسر ظفر اقبال بھی شعبہ اردوکے استادہیں۔

ادھر ''ایکسپریس''کو اسلام آباد کیمپس میں موجود جامعہ اردوکے ذرائع نے بتایا کہ سینیٹ کے اجلاس کے بعد جب جامعہ انتظامیہ نے اجلاس کی کارروائی رودادکی شکل میں بھجوائی تواسے یہ کہہ کرواپس کردیاگیا کہ اسے انگریزی زبان میں تحریرکیاجائے ، علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ صدرمملکت نے سینیٹ کے اجلاس میں گریڈ 20 کے اساتذہ کو ایسوسی ایٹ پروفیسرکادرجہ دینے کے معاملے پر کسی فیصلے کے بجائے فی الوقت اسے موخرکرنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے، یاد رہے کہ یہ اساتذہ پی ایچ ڈی نہ ہونے کے باوجود ایسوسی ایٹ پروفیسرکا عہدہ لینے کے خواہشمند ہیں ، مزید براں اجلاس کی رودادکی دیگرشقوں کے مطابق جامعہ اردوحیدرآباد میں کیمپس کے قیام کے لیے ابتدائی کام شروع کرے گی جس میں2 اراکین پہلے ہی شامل ہیں جبکہ شیخ الجامعہ مزیدایک رکن کاانتخاب کریں گے ، صدرمملکت نے گلگت میں ''انسٹی ٹیوٹ آف ارتھ سائنسز''کے ساتھ ساتھ کلیہ معارف اسلامیہ کے قیام کی بھی منظوری دیدی ہے۔

مقبول خبریں