صدر مملکت ایک شخص کی مرضی پر چلنے کے بجائے ملک کیلیے سوچیں وزیراعلیٰ سندھ

مراد علی شاہ احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش، نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس کی مزید سماعت 7 جولائی تک ملتوی


ویب ڈیسک June 16, 2022
ہمارے خلاف ریفرنس کی وجہ سیاسی انتقام لینا ہے، مراد علی شاہ (فوٹو فائل)

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صدر مملکت کسی ایک شخص کی مرضی پر چلنے کے بجائے ملک کے لیے سوچیں اور پارلیمنٹ کا لحاظ رکھیں۔

احتساب عدالت اسلام آباد میں نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس کی سماعت ہوئی، جس میں جج اصغر علی کی عدالت میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر پیش ہوئے۔ ملزمان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ نیب کا نیا قانون صدر پاکستان کے پاس گیا ہواہے، نیب قانون میں کافی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے ، پتا نہیں نیا قانون کب آئے گا ؟

احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے ریمارکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں کہ فرد جرم عائد کر دی جائے، جس پر کمرہ عدالت میں موجود افراد ہنس پڑے۔ عدالت نے سماعت مزید کارووائی کے لیے 7 جولائی تک ملتوی کر دی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے خلاف ریفرنس سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے،کرپشن ان کے ذہن کا ایک فتنہ تھا۔ کسی سرکاری افسر پر ایک روپیہ کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی۔ پاور پلانٹ آج بھی کے الیکٹرک کو سپلائی دے رہا ہے۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ احتساب عدالت میں آج 22ویں حاضری تھی، ہر پیشی پر ہر شخص کا ایک لاکھ روپے خرچ ہو رہا ہے ، ریفرنس میں نامزد لوگوں کے وکلا پر بھی خرچہ ہو رہاہے ، یہ ایسا کیس ہے، جس کا نہ سر ہے نہ پیر۔ نیب جعلی جھوٹا کیس بنا کر عدالت سمیت سب کا وقت ضائع کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر صاحب آرڈیننس کے لیے تو رات بارہ بجے اٹھ کر دستخط کر دیتے ہیں۔ صدر صاحب سوتے رہے ہیں، یہ بھی قانون بن جائے گا۔ صدر مملکت کسی ایک شخص کی مرضی پر چلنے کے بجائے ملک کے لیے سوچیں، پارلیمنٹ کا لحاظ رکھیں ۔ نیب قانون میں جو ترمیم ہوئی، وہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہیں۔ پارلیمنٹ نے اپنا کام کر دیا ہے ۔ ہم بھی چاہتے تو یہی قانون رکھتے تو ان کو چودہ چودہ دن کے لیے اندر رکھتے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بڑا مشکل ٹائم ہے، دو ڈھائی ماہ ہوئے ہماری حکومت آئی ہے، پٹرول کی قیمتیں کس طرح روکی گئیں، اس طرح کب تک چل سکتے تھے؟۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے لیے کچھ مشکل فیصلے لینے ہوں گے۔