حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ

ابھی تک مذاکراتی منظر نامہ یہ ہے کہ نئی کمیٹیاں بن رہی ہیں اور یہ واضح نہیں ہو رہا کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا


Editorial March 07, 2014
مذاکرات کا عمل شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے مگر ابھی تک ان کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا اور گومگو کی کیفیت بدستور جاری ہے۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

FAISALABAD: طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی حلقوں کی جانب سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے اور سرکاری مذاکراتی کمیٹی کو وسعت دی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ایک نئی سرکاری مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ انھوں نے نئی کمیٹی کے بارے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں وفاق کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا بھی ایک نمایندہ شامل ہو گا مگر انھوں نے نئی سرکاری کمیٹی کے ارکان کی تعداد' ان کے ناموں اور اس کمیٹی کے مینڈیٹ کے بارے میں وضاحت کیے بغیر کہا کہ دونوں جانب سے رابطہ کمیٹیاں رابطہ کاری کے طور پر معاملے کو آگے بڑھائیں گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم نے حکومتی کمیٹی تحلیل کر کے نئی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو طالبان سے براہ راست مذاکرات کرے گی۔ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے مگر ابھی تک ان کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا اور گومگو کی کیفیت بدستور جاری ہے۔ ابھی تک مذاکراتی منظر نامہ یہ ہے کہ نئی کمیٹیاں بن رہی ہیں اور یہ واضح نہیں ہو رہا کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا اور اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بعض حلقے معترض ہیں کہ مذاکرات کا مقصد حملے رکوانا اور امن قائم کرنا تھا مگر وہ مقصد ابھی تک پورا نہیں ہوا اور سیکیورٹی اداروں پر حملے رکنے میں نہیں آ رہے۔ ان حملوں سے طالبان کے اعلان لاتعلقی سے عیاں ہوتا ہے کہ ایسے گروہ موجود ہیں جو مذاکرات کو تسلیم نہیں کر رہے۔ طالبان حملے کرنے والے ان گروہوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی میں حکومت سے معاونت کریں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ وزیر داخلہ نے بھی اپنی تقریر میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کی واضح اکثریت اس وقت حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے' طالبان کی اکثریت ملک دشمن نہیں ہے، اگلے ہفتے طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں' مذاکرات کرنے والوں سے مذاکرات کریں گے' دہشت گردی کرنے والوں سے انھی کی زبان میں بات کی جائے گی۔

وزیر داخلہ نے امن و امان کے حوالے سے حکومتی موقف واضح کر دیا ہے کہ جو لوگ مذاکرات کے حامی ہیں حکومت ان کی طرف دوستانہ ہاتھ بڑھائے گی اور جو لوگ مذاکرات کی راہ چھوڑ کر دہشت گردی کا راستہ اپنائیں گے ،ان کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔ اب گیند طالبان کے کورٹ میں ہے' ان پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والوں سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ان کی نشاندہی میں حکومت سے تعاون کریں تاکہ ایسے گروہ جو امن نہیں چاہتے ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ اگر طالبان ان گروہوں سے علیحدگی کا اعلان نہیں کرتے اور سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آتا تو حکومت پر ان حملہ آور گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا اور مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں ان لوگوں کی ہلاکت کا بھی خدشہ رہے گا جو مذاکرات کے حامی ہیں۔ اب تک حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان جو صورت حال سامنے آئی اس کے مطابق حکومت کو بتایا گیا کہ حکومتی کمیٹی کے پاس فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں' لہٰذا مذاکراتی عمل میں تیز رفتاری سے پیشرفت مشکل امر ہے اسی لیے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے کمیٹی کے ارکان اور اس کی حیثیت میں ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومتی کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو تجویز دی گئی ہے کہ براہ راست رابطوں کا میکنزم بنایا جائے' فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے بااثر اور با اختیار افراد کا کمیٹی میں شامل ہونا ضروری ہے جن کا تعلق حکومت اور فوج سے ہو اور وہ فیصلے کرنے کے مجاز ہوں۔

حکومت اور سرکاری مذاکراتی کمیٹی کو مذاکرات کے ابتدائی مراحل کے بعد یہ احساس ہو گیا ہے کہ جب تک با اختیار کمیٹی نہیں بنائی جائے گی اور طالبان سے براہ راست مذاکرات نہیں کیے جائیں گے' رابطہ کاری کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور معاملات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو گی۔ جمعہ کو پاک فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں طالبان سے مذاکرات میں فوج کی شمولیت کی تجویز پر غور کیا گیا۔ اس کے بعد ٹی وی چینل پر وفاقی وزیر دفاع کا یہ بیان سامنے آیا کہ ابھی تک فوج کو مذاکرات میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ یہ بالکل صائب فیصلہ ہے کہ با اختیار کمیٹی طالبان سے براہ راست مذاکرات کرے' براہ راست مذاکرات کے عمل ہی سے معاملات میں پیش رفت ہو گی اور مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے ورنہ مذاکرات کا سلسلہ طویل ہوتا چلا جائے گا۔ جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں حکومتی اور طالبان دونوں کمیٹیوں سے ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف کو مذاکرات میں پیشرفت کے لیے جو تجاویز دی گئیں' وزیراعظم نے ان پر مثبت غور کی یقین دہانی کرائی۔ حکومتی کوششوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ اور پر خلوص ہے۔ امید ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھیں گے اور براہ راست رابطوں کے عمل سے مذاکرات جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔